امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پر یوکرین کے بارے میں ’بکواس‘ کرنے کا الزام عائد کیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ امریکا یوکرین کو مزید دفاعی ہتھیار فراہم کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:شمالی کوریا یوکرین کیخلاف روس کی مدد کے لیے 20 ہزار فوجی بھیج رہا ہے، یوکرینی انٹیلجنس رپورٹ

انترنیشنل میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس میں کابینہ اجلاس کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ہمیں پیوٹن کی طرف سے بہت سی بکواس سننے کو ملتی ہے، اگر سچ جاننا چاہتے ہو۔ وہ ہر وقت خوش اخلاقی سے بات کرتا ہے، لیکن اس کا کوئی مطلب نہیں نکلتا۔

ٹرمپ نے کہا کہ وہ پیوٹن سے گزشتہ ہفتے ہونے والی فون کال سے ’بہت مایوس‘ ہیں کیونکہ یوکرین میں امن کے لیے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

انہوں نے امریکی سینیٹ کی جانب سے روس پر مزید پابندیاں لگانے کے مجوزہ بل کے بارے میں کہا کہ میں اس پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہوں۔

یہ بیان ایسے وقت پر آیا جب ایک روز قبل ہی ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ یوکرین کو مزید اسلحہ بھیجنے کی منظوری دے چکے ہیں، حالانکہ ایک ہفتہ پہلے واشنگٹن نے کچھ ہتھیاروں کی ترسیل روکنے کا اعلان کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:روس کا یوکرین پر بڑا فضائی حملہ، یوکرینی ایف 16 جہاز تباہ، پائلٹ بھی ہلاک

امریکا فوری طور پر یوکرین کو 10 پیٹریاٹ میزائل شکن سسٹمز بھیجے گا۔ ساتھ ہی، ٹرمپ نے اپنے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو ہدایت دی ہے کہ امریکی دفاعی کمپنیوں پر اسلحہ کی پیداوار بڑھانے کے لیے دباؤ ڈالیں۔

روس کی طرف سے ٹرمپ کے ان سخت الفاظ پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، لیکن کریملن نے یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی کو جنگ کے طول پکڑنے کا سبب قرار دیا ہے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ یہ اقدامات امن کے لیے کی جانے والی کوششوں سے میل نہیں کھاتے۔

واضح رہے کہ یوکرینی حکام واشنگٹن کی جانب سے مسلسل متضاد بیانات پر الجھن کا شکار ہیں۔ ہتھیاروں کی فراہمی میں کسی بھی تعطل سے یوکرین کو شدید مشکلات پیش آ سکتی ہیں، خاص طور پر اس وقت جب روس بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کر رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا پیوٹن روس یوکرین یوکرین جنگ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا پیوٹن یوکرین یوکرین جنگ یوکرین کو کے لیے

پڑھیں:

اب وقت آگیا، دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں، ٹرمپ کا ایران کو پیغام

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں۔

اپنے تازہ بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے جس طرزِ عمل پر عمل پیرا ہے، اسے مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں سفارتی حل اور معاہدہ ہی آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے تعطل سے متعلق خبروں کو بھی مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض اطلاعات کے برعکس دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور بات چیت مسلسل جاری ہے اور مذاکرات کا عمل رکا نہیں ہے۔

امریکی صدر کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی گفتگو مختلف معاملات پر جاری ہے، تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ مذاکرات کا حتمی نتیجہ کیا نکلے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت کوئی بھی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ یہ مذاکرات کس سمت جائیں گے یا ان کا اختتام کس نوعیت کے معاہدے پر ہوگا، لیکن دونوں فریقوں کے درمیان رابطے برقرار ہیں۔

ٹرمپ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ ہفتوں میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے، جوہری پروگرام، علاقائی کشیدگی اور اقتصادی پابندیوں کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔

عالمی مبصرین کی نظریں بھی دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی رابطوں پر مرکوز ہیں کیونکہ کسی بھی ممکنہ پیش رفت کے مشرق وسطیٰ اور عالمی سیاست پر اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اب وقت آگیا، دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں، ٹرمپ کا ایران کو پیغام
  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان