Jasarat News:
2026-07-24@06:49:26 GMT

شرم الشیخ میں امن سربراہ کانفرنس

اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

مصر کے ساحلی شہر شرم الشیخ میں منعقدہ غزہ امن سربراہ کانفرنس میں اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ امن معاہدے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اور مصر، قطر اور ترکیہ کے سربراہان نے دستخط کر دیے۔ کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی وزیراعظم شہباز شریف نے کی جب کہ دیگر شرکا میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس، عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابوالغیط، فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان، برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر، انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو، یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا، جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز شامل تھے۔ اس کے علاوہ اسپین کے وزیر ِاعظم پیڈرو سانچیز، کویت کے وزیر ِاعظم احمد العبداللہ الصباح، اٹلی کی وزیر ِاعظم جارجیا میلونی، کینیڈا کے وزیر ِاعظم مارک کارنی اور عراق کے وزیر ِاعظم محمد شیاع السودانی بھی غزہ امن کانفرنس میں شریک تھے۔ قبل ازیں غزہ امن معاہدے کے تحت فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے تمام 20 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کردیا جب کہ اسرائیل کی جانب سے 1968 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے۔ عرب میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ حماس نے پہلے مرحلے میں 7 اورہ دوسرے مرحلے میں 13 یرغمالیوں کو رہا کیا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق حماس آج 28 یرغمالیوں کی لاشوں کو بھی اسرائیل کے سپرد کرے گی جب کہ 1968 فلسطینی قیدی اسرائیلی جیلوں سے بسوں میں سوار ہو کر غزہ اور فلسطین کے مغربی کنارے پہنچے۔ سربراہ کانفرنس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پہلے یہ پیش گوئیاں کی جا رہی تھیں کہ تیسری عالمی جنگ مشرقِ وسطیٰ سے شروع ہوگی، مگر اب ایسا نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ برسوں کی تباہی و بربادی اور خونریزی کے بعد غزہ میں جنگ اب ختم ہوچکی ہے، انسانی امداد وہاں پہنچ رہی ہے، اور خوراک، ادویہ اور دیگر اشیائے ضروریہ سے لدے سیکڑوں ٹرک وہاں پہنچ رہے ہیں، یرغمالی واپس پہنچ گئے ہیں اور شہری اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔ ایک نیا اور خوبصورت دن طلوع ہو رہا ہے اور اب تعمیر ِ نو کا عمل شروع ہوتا ہے۔ پیر کے روز وائٹ ہاؤس نے ’’ٹرمپ امن و خوشحالی کا اعلان‘‘ شائع کیا ہے، جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، مصری صدر عبدالفتاح السیسی، ترک صدر رجب طیب اردوان، اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے دستخط ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حالات کے تناظر میں اسے ایک مثبت قدم قراردیا جارہا ہے تاہم امریکی صدر کے بیس نکات پر مشتمل اس پلان میں متعدد ابہام اور کئی پیچیدہ مسائل ابھی تک حل طلب ہیں جن میں غزہ میں حکومت کی تشکیل، اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا، حماس کو غیر مسلح کرنے کی کوشش اور فلسطینی ریاست کا قیام۔ علاوہ ازیں کئی ایسے مسائل ہیں جن کے حل کا کوئی واضح روڈ میپ تشکیل نہیں دیا گیا۔ معاہدے میں غزہ میں مستقل امن کیسے برقرار رہے گا، مزید کیا کرنا ہے، کس مدت میں کام ہوگا، کون کرے گا، فلسطین کی خودمختاری اور غزہ کی تعمیر نو سمیت اور دیگر تفصیلات تشنہ ہیں، اس معاہدے کو امید افزا تو قرار دیا جارہا ہے مگر اس خدشے کے ساتھ کہ اگر اسرائیل نے معاہدے کی پاسداری نہ کی تو یہ جنگ بندی عارضی ثابت ہوگی۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اسرائیل ابھی تک بضد ہے کہ حماس اپنے ہتھیاروں سے دستبردار ہو جائے جسے اس نے مسترد کردیا ہے، اسی طرح، غزہ کی انتظامیہ کا سوال بھی غیر واضح ہے۔ امریکی منصوبے کے مطابق، ایک بین الاقوامی ادارہ غزہ کا انتظام سنبھالے گا، جو ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹک حکومت کے ذریعے کام کرے گا، جبکہ ایک عرب، بین الاقوامی سیکورٹی فورس فلسطینی پولیس کے ساتھ مل کر تعینات ہوگی اور اسرائیلی فوجیں بتدریج انخلا کریں گی۔ منصوبے میں فلسطینی اتھارٹی کے لیے اصلاحات کے بعد ممکنہ کردار کا ذکر ہے، جبکہ فلسطینی ریاست کے قیام پر بعد میں بات چیت کی تجویز دی گئی ہے، جسے اسرائیلی وزیراعظم سختی سے مسترد کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ حماس نے معاہدے کی دستخطی تقریب میں شرکت نہیں کی، حماس کے سیاسی بیورو کے رہنما حسام بدران نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’حماس دستخطی عمل میں شامل نہیں ہوگی۔ صرف ثالث، امریکی اور اسرائیلی حکام اس میں شریک ہوں گے۔ علاوہ ازیں بدران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منصوبہ بندی میں شامل اس تجویز کو کہ حماس کے رہنما غزہ سے نکل جائیں، ’’عبث اور بے ہودہ‘‘ قرار دے چکے ہیں، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو حماس ’’کسی بھی اسرائیلی جارحیت‘‘ کا جواب دے گی۔ مذاکرات کے عمل کے بارے میں، انہوں نے اشارہ دیا کہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کا اگلا مرحلہ ’’زیادہ مشکل اور پیچیدہ‘‘ ہوگا۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کے غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے جو معاہدہ کیا گیا ہے وہ پیش آمدہ صورتحال میں ایک عارضی حل تو ہو سکتا ہے مگر اسے کسی طور مسئلہ کا پائیدا حل قرار نہیں دیا جاسکتا، غزہ میں امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششیں یقینا قابل ِ قدر ہیں مگر اس سوال پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ غزہ میں طویل المدتی استحکام کیونکر ممکن ہوگا۔ مسئلے کے مستقل اور پائیدار حل کے لیے ناگزیر ہے کہ فلسطینیوں کے حق ِ خودارادیت کی راہ متعین کی جائے اور امن پلان میں شامل نکات کو فلسطینی عوام کے احساسات، جذبات اور مطالبات سے ہم آہنگ کیا جائے۔

 

اداریہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہ حماس کے وزیر رہا ہے کے صدر

پڑھیں:

آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل اہم سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے انتخابی اتحاد اور مختلف حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے پر اتفاق کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام بنائیں گے، چیف الیکشن کمشنر کا واضح پیغام

یہ اتفاق رائے استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر اور سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان ملاقات کے دوران ہوا۔

ملاقات میں آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال، آئندہ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات اور دونوں جماعتوں کے درمیان انتخابی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی جبکہ انتخابات کے بعد بھی مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا گیا۔

مزید پڑھیے: تنویر الیاس کے قافلے پر حملہ، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی شدید مذمت

ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد مختلف حلقوں میں امیدواروں کی حمایت اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق حتمی اعلان کرے گی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس اتحاد کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ دونوں جماعتیں مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے انتخابی میدان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں آئندہ حکومت استحکام پاکستان پارٹی کی ہوگی، تنویر الیاس کا دعویٰ

ملاقات کے موقع پر سابق معاون خصوصی سردار امتیاز شاہین، مسلم کانفرنس یوتھ ونگ کے چیئرمین سردار عثمان عتیق، کھائیگلہ پونچھ سے مسلم کانفرنس کے نامزد امیدوار ڈاکٹر عرفان اشرف، سابق امیدوار اسمبلی سردار منظور ایڈووکیٹ، سابق ڈی جی ہیلتھ سردار محمود خان، پولیٹیکل ایڈوائزر سردار افتخار رشید، ممبر میونسپل کارپوریشن باغ سردار شجاع منگول ایڈووکیٹ، سابق پولیٹیکل سیکرٹری سردار شبریز صابر، پیر عبدالقادر، سردار عفان عتیق، راجہ عبدالجبار اور اسٹاف آفیسر سردار حفیظ خان بھی موجود تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر تنویر الیاس اور سرادر عتیق احمد کی ملاقات سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان

متعلقہ مضامین

  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم