برسات میں حادثات کا خطرہ: کراچی میں انتہائی مخدوش 9 عمارتیں خالی کرالی گئیں
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: مون سون برسات سے مخدوش عمارتوں سے مزید حادثات کا خدشہ ہے، مخدوش و خطرناک عمارتیں خالی کرانے کیلئے اقدامات تیز کر دیئے گئے۔
حکام کے مطابق شہر میں اب تک 9 انتہائی مخدوش عمارتیں خالی کرا لی گئی ہیں۔ جن 3 رہائشی عمارتیں بغدادی، 2 کھارادر 1 آگرہ تاج اور 1 کھڈا مارکیٹ اور 2 دریا آباد میں خالی کرائی گئیں۔
حکام نے مزید بتایا کہ نیا آباد لیاری کے علاقے میں 5 مزید مخدوش رہائشی عمارتوں کو خالی کرایا جائے گا۔
واضح رہے کہ کراچی کا اولڈ سٹی ایریا مخدوش عمارتوں کا جنگل ہے، صرف لیاری میں 107 عمارتیں رہائش کے قابل نہیں، شہر میں اب بھی 588 مخدوش عمارتیں موجود ہیں۔
.ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وادی تیراہ میں خوارج دہشتگردوں کی بڑھتی سرگرمیاں پشاور کے لیے بڑا خطرہ بن گئیں
وادی تیراہ میں خوارج کی بڑھتی دہشت گردانہ سرگرمیوں نے پشاور کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔
فتنۃ الخوارج نے ایک بار پھر وادی تیراہ کے نیٹ ورکس کے ذریعے پشاور پر دہشت گردانہ حملے شروع کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق تیراہ اور پشاور کا درمیانی فاصلہ تقریباً 70 کلومیٹر اور سفر کا وقت صرف 2 گھنٹے ہے۔
ذرائع کے مطابق 24نومبر کوپشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پر حملے میں ملوث افغان خوارج نے تیراہ ہی کا راستہ اپنایا تھا۔ 25 نومبر کو حسن خیل، پشاور میں گیس پائپ لائن آئی ای ڈی سے تباہ کرنے والے خوارجی بھی وادی تیراہ ہی سے آئے تھے جب کہ ماضی میں خارجی حکیم اللہ محسود کا مرکز طویل عرصے تک تیراہ میں ہی قائم رہا۔
خارجی حکیم اللہ محسود پورے قبائلی علاقے ، پشاور اور ملک بھر میں تیراہ سے کارروائیاں کرتا رہا۔ حالیہ متعدد حملوں میں ملوث افغان شہریوں کے روابط بھی تیراہ میں قائم نیٹ ورکس سے منسلک پائے گئے ہیں۔
2014 میں APS حملے کی منصوبہ بندی بھی خوارج نے تیراہ میں واقع انہی خفیہ مراکزِ میں کی تھی۔ ذرائع کے مطابق تیراہ میں ایک بار پھر دہشتگردوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور منشیات کے کاروبار سے جڑے اندرونی مفادات بھی اسی خطّے میں کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر پہلے بھی اپنی پریس کانفرنس میں کہہ چکے ہیں کہ منشیات کے کاروبار اور دہشتگردی میں گہرا تعلق ہے۔ تیراہ میں اس بڑھتے گٹھ جوڑ اور اس سے پیدا ہونے والی دہشتگردی کو اگر ختم نہ کیا گیا تو پشاور میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہو سکتاہے۔ صوبائی حکومت کو فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ورنہ پشاور سمیت پورے خیبر پختونخوا میں حملوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔