فائل فوٹو

کراچی میں ناردرن بائی پاس کے قریب افغان کیمپ کی خالی زمین پر لینڈ مافیا کے قبضے کا خدشہ سامنے آیا ہے۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ایسٹ عرفان بلوچ نے افغان کیمپ سے متعلق پولیس چیف کو خط لکھ دیا۔

ڈی آئی جی ایسٹ کے خط میں کہا گیا ہے کہ افغان کیمپ کی خالی زمین سے متعلق ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے)، ڈپٹی کمشنر اور پولیس افسران پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے۔

عرفان بلوچ نے خط میں مزید کہا گیا کہ افغان کیمپ کی خالی زمین کا سروے اور اراضی ایم ڈی اے قبضے میں لے۔

انہوں نے خط میں یہ بھی بتایا کہ افغان کیمپ میں 3 ہزار سے زائد گھروں میں 15 ہزار افغان رہائش پذیر تھے، جن میں سے زیادہ تر رہائشی جاچکے جبکہ ڈیڑھ ہزار افغانی تاحال موجود ہیں۔

ڈی آئی جی ایسٹ کے خط میں کہا گیا کہ خالی گھروں کو لینڈ کنٹرول اتھارٹی اپنے قبضے میں لے۔

.

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: افغان کیمپ کی خالی زمین

پڑھیں:

گلشن اقبال میں گھر پر قبضہ کرنے اور ان کے سرپرستوں کو قانون کی گرفت میں لایا  جائے،منعم ظفر خان

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی:جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر خان نے گلشن اقبال میں قبضہ مافیا کی جانب سے شہری کے گھر پر قبضے کی کوشش کی شدید مذمت کی اور فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

 نائب امیر کراچی و اپوزیشن لیڈر ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ کے ہمراہ متاثرہ اشخاص والد محمد یامین اور ان کے صاحبزادے محمد طاہر کے گھر B-60 بلاک 13-D/1 پر ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے منعم ظفر خان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر داخلہ، ڈی آئی جی اور ایس ایس پی کو چاہیے کہ واقعے کی شفاف اور فوری تحقیقات کرائی جائیں اور مسلح حملہ آور افراد کے ساتھ ان کے سرپرستوں کو بھی قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

انہوں نے پولیس اہلکاروں کی غفلت پر سخت کارروائی کا بھی مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وکالت کا شعبہ عزت اور انصاف کی علامت ہے مگر چند عناصر کالے کوٹ پہن کر دہشت گردی میں ملوث ہیں، انہوں نے کراچی بار اور سندھ بار سے مطالبہ کیا کہ اس واقعے میں ملوث وکلاء کے لائسنس منسوخ کیے جائیں اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

منعم ظفر خان نے بتایا کہ گزشتہ رات 50 سے 60 افراد پولیس کی سرپرستی میں گھر پر دھاوا بولے، فائرنگ کی اور سامان باہر پھینک کر قبضے کی کوشش کی، جسے جماعت اسلامی کی مقامی ٹیم اور اہل محلہ نے ناکام بنایا، یہ واقعہ شہر میں جعلی کاغذات اور فائلوں کے ذریعے زمینوں اور مکانات پر قبضے کے بڑھتے ہوئے نظام کی سنگین علامت ہے۔

انہوں نے کلفٹن، شاہ لطیف، نارتھ ناظم آباد، سکیم 33 اور دیگر علاقوں میں پارکوں، سرکاری زمینوں اور رہائشی پلاٹوں پر قبضے، جعلی انتخابات اور غیر قانونی الاٹمنٹس کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب قابض میئر مرتضیٰ وہاب، سندھ حکومت اور متعلقہ اداروں کی سرپرستی میں ہو رہا ہے۔ 4 ستمبر کے ہائی کورٹ آرڈر کے باوجود پارکوں پر تجارتی کام اور تعمیرات جاری ہیں، جو عدالتی فیصلوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

منعم ظفر خان نے زور دیا کہ کراچی کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنے والے عناصر بھی اسی قبضہ مافیا کا حصہ ہیں اور جماعت اسلامی شہر کے ہر محلے، ہر بستی اور عوام کے ساتھ کھڑی رہے گی، جماعت اسلامی نے اس شہر کو بنانے کے لیے ہمیشہ اپناکردار ادا کیا ہے، لوگوں کے حقوق کیلیے بھی ہم سرگرم ہیں۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی

متعلقہ مضامین

  • گلشن اقبال میں گھر پر قبضہ کرنے اور ان کے سرپرستوں کو قانون کی گرفت میں لایا  جائے،منعم ظفر خان
  • کراچی: گلشن اقبال میں مکان پر مبینہ قبضے کی کوشش، فائرنگ کی ویڈیو وائرل
  • اسلام آباد میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی اسکینڈل، شہریوں سے کھربوں روپے کے فراڈ کا انکشاف
  • اسلام آباد اور راولپنڈی میں ہاؤسنگ اسکیموں کی جعلسازی، شہریوں سے کھربوں روپے کا فراڈ
  • شہاب ثاقب کا چاند سے ٹکرانے کا خدشہ؛ ناسا نے الرٹ جاری کردیا
  • 54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت متوقع: وزیر خزانہ
  • 54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ
  • اے وی سی سی کارروائی، ڈاکوؤں کے قبضے سےمغوی بازیاب
  • 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کردی گئیں ؛ وفاقی وزیر خزانہ کا اعلان
  • 54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وفاقی وزیر خزانہ