جارحیت کا جواب، پاک فوج کا 19 افغان پوسٹوں پر قبضہ، بٹالین ہیڈکوارٹرز، مورچے تباہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
جارحیت کا جواب، پاک فوج کا 19 افغان پوسٹوں پر قبضہ، بٹالین ہیڈکوارٹرز، مورچے تباہ WhatsAppFacebookTwitter 0 12 October, 2025 سب نیوز
پاک افغان سرحد پر افغانستان کی بلا اشتعال جارحیت کا بھرپور جواب دیتے ہوئے پاکستان نے افغان بارڈر پر 19 پوسٹوں پر قبضہ کر لیا، منوجیا بٹالین ہیڈ کوارٹرز، غرنالی ہیڈکوارٹر، درانی کیمپ سمیت کئی مورچے ملیامیٹ کر دیئے، درجنوں افغان فوجیوں اور فتنہ الخوارج کے ارکان ہلاک ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق افغان فورسز نے انگور اڈا، باجوڑ، کرم، دیر، چترال، اور بارام چاہ کے مقامات پر بھی بِلا اشتعال فائرنگ کی اور خوارجی دہشت گردوں نے کئی مقامات پر سرحد پار کرنے کی بھی کوشش کی جسے پاک فوج نے ناکام بنا دیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز کی جانب سے افغانستان کی بلا اشتعال فائرنگ پر رات گئے سے بھرپور اور مؤثر جوابی حملہ کیا، اور افغانستان کی ان 19 پوسٹوں پر قبضہ کر لیا جہاں سے پاکستان پر حملے کیے جا رہے تھے۔
سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ویڈیوز میں قبضہ شدہ افغان پوسٹوں پر آگ اور تباہی کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں، بیشترافغان طالبان پوسٹیں خالی چھوڑ کر بھاگ چکےہیں، کئی پوسٹوں پر افغان اہلکار سرنڈر کر چکے ہیں جبکہ کئی مقامات پر فتنہ الخوارج دراندازی کرتے مارے گئے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے شدید اور موثر جوابی کاروائی کے نتیجے میں چمن بارڈر کے علاقے میں افغان طالبان اور طالبان کی پوسٹوں پر چھپے خارجی پوسٹیں چھوڑ کر بھاگتے ہوئے مارے گئے۔
پاکستان فوج کی طرف سے برابچا کے علاقے میں افغان طالبان کی اُس بٹالین کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں سے خارجیوں اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کو پاکستان میں لانچ کیا جاتا تھا۔
سٹرائیک میں فتنہ الہندوستان اور خارجیوں کے بھاری جانی اور مالی نقصانات کی اطلاعات ہیں، کئی ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔
پاکستان نے طالبان فورسز کی ژوب سیکٹر میں اہم پوسٹ پر قبضہ کر کے پاکستان کا جھنڈا لہرا دیا، قبضہ کی جانے والی طالبان پوسٹ پر موجودافغان طالبان کی ہم وی بکتر بند کو بھی تباہ کر دیا گیا،
سکیورٹی ذرائع کے مطابق کُرم کے مخالف علاقے میں افغانستان سائیڈ پر چوٹی پر موجود ٹینک پوزیشن کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی سکیورٹی فورسز کی طرف سے اب تک 27 اہداف کو نشانہ بنایا گیا یے، یہ خوارج کو پناہ دینے اور پھر پاکستان میں داخل کروانے کے لئے سہولت کاری بھی کرتے تھے۔
غرنالی ہیڈ کوارٹرز اور درانی کیمپ 2 مکمل تباہ
پاکستان نے طالبان فورسز کے درانی کیمپ 2 پر کامیاب سٹرائیک کی، طالبان کا درانی کیمپ 2 مکمل تباہ کر دیا، درانی کیمپ میں موجود پچاس سے زائد افغان فوجی اور خارجیوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات آئی ہیں۔
پاک فوج کے حملے میں ہلاک ہونے والے خارجیوں کی ویڈیو بھی سامنے آ گئی۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان نے طالبان فورسز کے غزنالی ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا، طالبان کے غزنالی ہیڈ کوارٹر میں موجود درجنوں طالبان اور خارجیوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔
فتنہ الخوارج کا مرکز کھرچر فورٹ تباہ
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے برامچا سیکٹر میں افغانی شہیدان پوسٹ تباہ کردی، خرلاچی سیکٹر میں افغانی پوسٹوں کو بھی نشانہ بنایا۔
خارجیوں اور افغان فورسز کے خلاف ایک اور بڑی کامیابی ملی ہے اور مؤثر فائر سے کھرچر فورٹ مکمل تباہ کردی گئی، کھرچر فورٹ فتنہ الخوارج کا مرکز تھا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغانستان کی جارحیت کے جواب میں پاکستان نے داعش اور خارجیوں کو نشانہ بنانے کے لیے فضائی وسائل اور ڈرون کا بھی استعمال کیا، افغان پوسٹیں کور فائر دینے میں مکمل ناکام رہیں، خارجی تشکیلیں منتشر ہوگئیں۔
منوجیا بٹالین ہیڈکوارٹرز 1 اور 2 ملیامیٹ
افغانستان کا منوجبا کیمپ بٹالین ہیڈکوارٹر1 اور 2 مکمل ملیا میٹ ہوگئے، درجنوں طالبان سپاہی اور خوارجیوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔
کرم میں مخالف علاقے میں افغان پوسٹ تباہ ہونے کی ویڈیو جاری کر دی گئی۔
میلا اور ترکمانزئی کیمپس نیست و نابود
افغان ٹالی پوسٹ بھی تباہ ہو گئی، افغانی دوران میلا اور ترکمانزئی کیمپس بھی نیست و نابود کر دیے گئے، خرلاچی سیکٹرمیں بھی افغانی پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا، پاک فوج نےافغان جنڈوسر اور کنڑ پوسٹ بھی ملیا میٹ کردیں۔
پاک فوج کے مؤثرفائرسے لیوبند، قلعہ عبداللہ سیکٹرمیں افغانی پوسٹ مکمل تباہ ہو گئی، چاغی کے قریب افغان دہشت گردوں پر پاکستان فورسز نے کڑے وار کئے، کئی افغان دہشت گرد ہلاک اور چیک پوسٹیں اڑا دی گئیں۔
چترال کے قریب افغانستان کی پوسٹ تباہ ہو گئی، پاکستان کی جانب سےآرٹلری، ٹینکوں اور دیگر ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔
بتایا گیا ہے کہ افغانستان کی طرف سے فائرنگ کا مقصد خوارج کو بارڈر پار کرانا بھی تھا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرامریکی سینٹرل کمان کے سربراہ کا دورہ غزہ، حماس کا غیرمسلح ہونے سے انکار مظاہرین نے پولیس اہلکاروں کو اغوا کیا،قانون ہاتھ میں لینے والوں کو نہیں چھوڑا جائے گا، آئی جی پنجاب مریم نواز کا پنجاب میں ٹیکس فری سعودی انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کرنے کا اعلان وزیراعلی خیبرپختونخوا کا انتخاب: پی ٹی آئی اراکین حمایت کیلئے جے یو آئی مرکز پہنچ گئے نائب وزیراعظم کا ایرانی وزیرخارجہ سے رابطہ، مصر میں ہونے والے سربراہی اجلاس پر مشاورت مذہبی جماعت کے احتجاج میں بہت سے اہلکار لاپتہ ہیں: فیصل کامران گورنر ہا ئوس خیبر پختونخوا کو گنڈا پور کا استعفی موصول، فوری منظوری سے معذرتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پوسٹوں پر قبضہ پاک فوج
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔