اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ 200 یونٹ تک کے صارفین کو 80 فیصد ڈسکائونٹ دیا جا رہا ہے۔ ہم صارفین کو ریلیف کے حوالے سے مزید اقدامات بھی کریں گے۔ محمد ادریس کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی توانائی کا اجلاس ہوا جس میں حیسکو اور کے الیکٹرک کیلئے متبادل گرڈ سٹیشن کا معاملہ زیر بحث آیا۔ حیسکو حکام  نے کہا کہ اگر جامشورو میں فالٹ آئے تو پورا حیسکو بلیک آؤٹ میں چلا جاتا ہے۔ جامشورو کے گرڈ میں فالٹ کا مطلب 13 شہروں کا بجلی سے محروم ہونا ہے۔ وزیر توانائی  اویس لغاری نے کہا کہ جامشورو گرڈ بھی تب بلیک آئوٹ میں جاتا ہے جب نیشنل بلیک آئوٹ ہو، مجھے یاد نہیں کہ جامشورو گرڈ میں الگ سے کوئی فالٹ آیا ہو۔ وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ جامشورو گرڈ کا کے الیکڑک کے ساتھ تو کوئی تعلق ہی نہیں ہے،کے الیکٹرک کا بجلی کا سارا نظام بالکل الگ ہے۔ کے الیکٹرک اب نیشنل گرڈ سے 600 میگاواٹ تک بحلی لے سکتی ہے، مہنگی بجلی اور زیادہ بلوں کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی توانائی میں گونج رہی،  رکن کمیٹی رانا سکندر حیات  نے کہا کہ ہم لوگوں کو کیا جواب دیں بجلی کب سستی ہوگی، کچی آبادیوں اور ہاؤسنگ سوسائیٹیوں میں بجلی کنکشن نہیں ہیں۔ رانا سکندر حیات نے کہا کہ کئی سوسائیٹیاں 50 سالوں سے قائم ہیں لیکن وہاں بجلی نہیں ہے۔ ایسی جگہوں پر بجلی چوری ہو رہی ہے۔ ایک میٹر ساتھ 10 کنڈے ہوتے ہیں، اس پر وزیر توانائی نے کہا کہ ہاؤسنگ میں کنکشن تب لگتے ہیں جب وہاں کی مقامی اتھارٹی ڈیمانڈ کرے۔ مقامی اتھارٹی ڈیمانڈ کرے تو ہم کنکشن دینے کے پابند ہیں، ہم اس سے پہلے ایک اتھارٹی کا رول کیسے ادا کر سکتے ہیں۔ وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ میرے لیے کنکشن دینا بہت آسان ہے۔ اس سے بجلی زیادہ استعمال ہو گی۔ زیادہ بجلی استعمال ہوگی تو بجلی کے ریٹ کم ہو جائیں گے۔  بجلی کی قیمت اس لیے ہی زیادہ ہے کیونکہ بجلی کا استعمال کم ہے۔ رانا سکندر حیات نے کہا کہ اس لیے سوسائیٹیوں میں کنکشن دیں تاکہ استعمال بڑھے، وزیر توانائی اویس لغاری  نے کہا کہ یہ بجلی کے محکمے کا تو فائدہ ہے لیکن قومی نقصان ہے۔ اتھارٹیز سے ڈیمانڈ نوٹس بھجوا دیں ہم کنکشن لگا دیں گے، 500 ارب کی بجلی چوری نہیں ہے، بجلی چوری 250 ارب سالانہ ہے۔ رکن کمیٹی رانا سکندر حیات نے کہا کہ باقی بلوں میں ریکور نہ ہونے والی رقم ہے۔ ملک انور تاج نے کہا کہ 200 یونٹ اور 201 یونٹ کا معاملہ آجکل لوگوں میں زیر بحث ہے۔ ملک انور تاج نے 200 اور 201 یونٹ پر بلوں میں فرق کا ایجنڈہ شامل کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ایجنڈہ شامل کیا جائے کہ ایک یونٹ کے فرق پر بل اتنا کیوں بڑھ جاتا ہے۔ رانا سکندر حیات نے کہا کہ لائف لائن والے صارفین کو 200 یونٹ تک 5000 روپے بل آتا ہے، جیسے ہی 201 یونٹ ہوتے ہیں بل 15 ہزار ہو جاتا ہے۔ ایک یونٹ بڑھنے سے اگلے 6 ماہ تک وہ پروٹیکٹڈ صارف بھی نہیں رہتا، کم از کم  اسی مہینے کیلئے نان پروٹیکٹڈ رکھ لیں، چھ ماہ کیلئے کیوں؟۔ وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ 200 یونٹ تک کے صارفین کو 80 فیصد ڈسکاؤنٹ دیا جا رہا ہے، ہم صارفین کو ریلیف کے حوالے سے مزید اقدامات بھی کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: رانا سکندر حیات نے کہا کہ وزیر توانائی اویس لغاری اویس لغاری نے کہا کہ صارفین کو بجلی چوری جاتا ہے

پڑھیں:

غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی

اسلام آباد:

سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں ارکان نے کہا ہے کہ غیر ضروری وزارتوں کو ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت کرنا ممکن ہے۔

سینیٹر ضمیر حسین کی زیر صدارت سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی منتقلی اور اس پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران وفاقی حکومت کی تنظیمِ نو، وزارتوں کی تعداد کم کرنے اور آئینی تقاضوں کے مطابق وفاقی حکومت کے دائرۂ کار کو محدود رکھنے سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔

کمیٹی ارکان نے کہا کہ غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے ۔ وفاقی حکومت کو آئین کے مطابق محدود دائرۂ کار میں کام کرنا چاہیے۔ کمیٹی نے مشترکہ مفادات کونسل کے آئینی کردار اور اختیارات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔

اجلاس کے دوران سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نہ ہونے سے آئینی تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ضروری ہے، آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے وفاقی اخراجات اور وزارتوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، جبکہ این ایف سی اور مشترکہ مفادات کونسل سمیت آئینی اداروں کو فعال بنایا جائے۔

کمیٹی میں اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ آئینی ادارے فعال ہوں گے تو وفاق اور صوبوں کے کئی مسائل حل ہو سکیں گے۔

سینیٹر ضمیر حسین نے کہا کہ سندھ سے روزانہ 3 ارب 70 کروڑ روپے کا تیل نکلتا ہے لیکن صوبے کو کچھ نہیں دیا جاتا، جبکہ خیبرپختونخوا سے 42 فیصد تیل نکلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن صوبوں سے تیل اور گیس نکل رہی ہے انہیں 16 سال سے ایک ٹکہ بھی نہیں دیا گیا، کمپنیاں اور کارپوریشنز منافع کما رہی ہیں جبکہ عوام بھوک سے مر رہے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو تیل اور گیس کے پیسے کیوں نہیں دے رہی۔ صوبوں کو ان کا حصہ نہ دینا بری حکمرانی ہے۔ حکومت نہ اٹھارہویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد کر رہی ہے اور نہ ہی صوبوں کو سپورٹ کر رہی ہے۔

اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 38(جی) پر عملدرآمد سے متعلق تقرریوں کے طریقہ کار پر کمیٹی کو رپورٹ پیش کی گئی جبکہ وزارتِ پیٹرولیم نے آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عملدرآمد کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کنویئر کمیٹی نے زور دیا کہ ہر ادارہ اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرے اور آئین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

کنویئر کمیٹی نے کہا کہ تیل و گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو ان کا آئینی حق نہ دینا سنگین خلاف ورزی ہے ۔ خیبرپختونخوا و سندھ کو تیل و گیس سے حاصل ہونے والے فوائد سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

بعد ازاں کمیٹی نے تیل و گیس پیدا کرنے والے علاقوں کی متعلقہ اداروں میں نمائندگی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تیل و گیس سے حاصل آمدن کی مکمل تفصیلات کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کے بغیر وفاق مضبوط نہیں ہو سکتا، آئین پر عمل نہ ہونے سے سیاسی اور انتظامی مسائل جنم لیتے ہیں۔ سرکاری اداروں میں غیر ضروری اخراجات کم کر کے قومی وسائل بچائے جا سکتے ہیں، اس لیے ڈپلیکیٹ محکموں اور غیر ضروری اخراجات کا بھی جامع جائزہ لیا جانا چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران