بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت پارلیمنٹ میں نیشنل اسپورٹس گورننس بل پیش کرنے والی ہے، جس کے ذریعے انڈین کرکٹ بورڈیعنی بی سی سی آئی سمیت 45  قومی اسپورٹس فیڈریشنز کو حکومت کی نگرانی میں لایا جائے گا، بل کے قانون بننے کے بعد بی سی سی آئی کو مجوزہ نیشنل اسپورٹس بورڈ سے تسلیم شدہ حیثیت حاصل کرنا ہوگی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق تمام قومی اسپورٹس فیڈریشنز کی طرح، BCCI کو بھی اس بل کے ایکٹ بننے کے بعد ملکی قانون کی پابندی کرنی ہوگی، وہ وزارت سے مالی امداد نہیں لیتے، لیکن پارلیمنٹ کے ایکٹ ان پر بھی لاگو ہوں گے، وہ دیگر فیڈریشنز کی طرح خودمختار ادارہ رہیں گے۔

تاہم اگر کوئی تنازع پیدا ہوتا ہے تو وہ مجوزہ نیشنل اسپورٹس ٹربیونل میں حل کیا جائے گا، جو انتخابات سے لے کر سلیکشن تک کے مسائل کا تصفیہ کرے گا، یہ پیش رفت خاصی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ بی سی سی آئی ایک خودمختار ادارہ ہے جو 1975 کے تمل ناڈو سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

بی سی سی آئی 45 تسلیم شدہ فیڈریشنز میں شامل نہیں، جن میں بڑے اولمپک کھیل اور مقامی کھیل جیسے یوگاسنہ، کھو کھو اور اٹیا پٹیا شامل ہیں، مجوزہ بل کے تحت ایک نیشنل اسپورٹس بورڈ تشکیل دیا جائے گا جو فیڈریشنز کی منظوری، معطلی اور ان کی نگرانی کرے گا، اس بورڈ کے اراکین بشمول چیئرمین کو مرکزی حکومت مقرر کرے گی۔

یہ بورڈ کھلاڑیوں کے حقوق کے تحفظ اور شفاف و بروقت انتخابات کو بھی یقینی بنائے گا۔ کسی فیڈریشن کی معطلی یا منظوری ختم ہونے کی صورت میں، بورڈ کو عارضی انتظامی کمیٹی تعینات کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا، تاہم بل کا مقصد فیڈریشنز پر حکومت کا کنٹرول حاصل کرنا نہیں بلکہ ’شفاف نظام اور اخلاقی گورننس کو یقینی بنانا‘ ہے۔

کیا راجر بنی بطور صدر برقرار رہیں گے؟

بل میں ایک نئی شق شامل کی گئی ہے جس کے تحت کسی بھی عہدے کے لیے عمر کی بالائی حد 70 سے بڑھا کر 75 سال کر دی گئی ہے، اس کا مطلب ہے کہ 70 سے 75 سال کی عمر کے افراد، اگر بین الاقوامی قوانین اجازت دیں، تو مکمل مدت کے لیے خدمات انجام دے سکتے ہیں۔

اگر بی سی سی آئی کو نیشنل اسپورٹس فیڈریشن کے دائرہ اختیار میں لایا گیا تو چند روز قبل ہی 70 سال کی عمر مکمل کرنیوالے موجودہ صدر راجر بنی اپنے عہدے پر برقرار رہ سکتے ہیں، فی الحال بی سی سی آئی کے آئین کے مطابق کوئی بھی فرد 70 سال کی عمر کے بعد کسی عہدے پر فائز نہیں رہ سکتا، تاہم نیشنل اسپورٹس فیڈریشن بننے کی صورت میں یہ اصول تبدیل ہو سکتا ہے۔

مزید یہ کہ، تمام نیشنل اسپورٹس فیڈریشن ادارے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے دائرہ کار میں بھی آ جائیں گے۔

نیشنل اسپورٹس ٹربیونل کی تشکیل

بل میں ایک علیحدہ ادارے ’نیشنل اسپورٹس ٹربیونل‘ کے قیام کی تجویز بھی دی گئی ہے، جو کھیلوں کے نظام میں شامل فریقین، مثلاً افسران، کھلاڑیوں اور کوچز، کے مابین تنازعات کا فوری اور مؤثر حل فراہم کرے گا، مجوزہ ٹربیونل کے فیصلوں کو صرف سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا سکے گا۔

تاہم، یہ ٹربیونل اولمپک، پیرا اولمپک، ایشین گیمز، کامن ویلتھ گیمز یا بین الاقوامی فیڈریشنز کے زیر اہتمام مقابلوں سے متعلق تنازعات پر کوئی فیصلہ نہیں دے سکے گا، اسی طرح، اینٹی ڈوپنگ کے معاملات بھی اس کے دائرہ اختیار سے باہر ہوں گے کیونکہ ان کے لیے نیشنل اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کے تحت آزاد ڈسپلنری اور اپیل پینل موجود ہیں۔

اسی دن حکومت ایک نیا ’نیشنل اینٹی ڈوپنگ بل‘ بھی متعارف کروا رہی ہے، یہ بل ایسے وقت میں آ رہا ہے جب بھارت نے 2023 میں 5000 سے زائد نمونوں کی جانچ کرنے والے ممالک کی ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کی فہرست میں پہلا مقام حاصل کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بی جے پی بی سی سی آئی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بی جے پی اسپورٹس فیڈریشن نیشنل اسپورٹس کے لیے کے تحت

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ