لاہور، وحدت روڈ پر چلتی بس میں آگ بھڑک اٹھی، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
لاہور:
وحدت روڈ پر ایک چلتی ہوئی مسافر بس میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، تاہم خوش قسمتی سے واقعے کے وقت بس میں کوئی مسافر موجود نہیں تھا جس کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
عینی شاہدین کے مطابق، آگ لگنے کے فوراً بعد ڈرائیور نے حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈرائیونگ سیٹ سے چھلانگ لگا کر اپنی جان بچائی۔ مقامی افراد نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر اپنی مدد آپ کے تحت آگ بجھانے کی کوشش کی۔
واقعے کے دوران فائر بریگیڈ کو بھی طلب کیا گیا، تاہم آگ اتنی شدت اختیار کر چکی تھی کہ بس مکمل طور پر جل کر خاکستر ہوگئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ لگنے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی، تاہم متعلقہ حکام نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔