پشاور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی 2025ء ) صوبہ خیبرپختونخواہ کے دارالحکومت پشاور میں ایکسائز کے ضبط شدہ گاڑیوں کے ویئر ہاؤس میں آگ لگنے سے درجنوں گاڑیاں جل گئیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پشاور کے ٹول پلازہ کے قریب محکمہ ایکسائز کے ضبط شدہ گاڑیوں کے ویئر ہاؤس میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں درجنوں گاڑیاں جل کر راکھ ہوگئیں، آگ لگنے کے بعد علاقے میں افرا تفری پھیل گئی، دھوئیں کے بادل دور تک دکھائی دیتے رہے۔

(جاری ہے)

ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال فیضی نے بتایا کہ اچانک لگنے والی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے ویئر ہاؤس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، واقعے کی اطلاع ملنے پر ریسکیو کی فائر ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچ گئیں اور آگ بجھانے کی کارروائی شروع کردی، آگ بجھانے میں چار فائر وہیکلز اور ایک ایمبولینس نے حصہ لیا، کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا، واقعے میں لاکھوں روپے مالیت کی ضبط شدہ گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں، آگ لگنے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی تاہم واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جب کہ خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ویئر ہاؤس

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں