غزہ پر مسلسل جارحیت نے اسرائیل کو تنہا کر دیا:امریکی اخبار کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
غزہ: امریکی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل غزہ میں مسلسل وحشیانہ حملوں کے باعث عالمی تنہائی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے 17 ماہ بعد بھی اسرائیل نہ صرف جنگ بندی پر تیار نہیں بلکہ مسلسل فلسطینی شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
غزہ میں امدادی سامان کی تقسیم امریکا کی نگرانی میں کی جا رہی ہے، لیکن یہ عمل انتہائی بدنظمی اور افراتفری کا شکار ہے۔ اسی دوران اسرائیلی فوج نے بھوک اور پیاس سے بے حال فلسطینیوں پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد شہید ہو گئے۔
ادھر، شہداء کی تعداد 54 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ حماس نے امریکی جنگ بندی تجاویز کو تسلیم کیا ہے، لیکن اسرائیل نے ایک بار پھر ان تجاویز کو مسترد کر دیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی یہ ہٹ دھرمی نہ صرف انسانی بحران کو بدتر کر رہی ہے بلکہ عالمی سطح پر اسے الگ تھلگ کر رہی ہے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔