غزہ فلسطینیوں کا ہے اور ہمیں وہاں سے نکلنا چاہئے، سابق صیہونی وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
الجزیرہ سے اپنی ایک گفتگو میں ایھود اولمرٹ کا کہنا تھا کہ مجھے اس بات کا یقین ہے کہ "ڈونلڈ ٹرامپ" اور اسٹیو ویٹکاف جنگبندی کیلئے "نتین یاہو" پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اسرائیلی وزیراعظم "ایھود اولمرٹ" نے کہا کہ غزہ فلسطینیوں کا ہے اور ہمیں وہاں سے اپنی فوج کو واپس بلانا چاہئے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار الجزیرہ کے ساتھ گفتگو میں کیا۔ اس موقع پر ایھود اولمرٹ نے کہا کہ جنگ کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ غزہ سے صیہونی قیدیوں کی واپسی کے لئے معاہدے پر دستخط ہونے چاہئیں کیونکہ اس وقت جنگ جاری رکھنے کے لئے کوئی قابل قبول عسکری ہدف بھی موجود نہیں۔ انہوں نے دو انتہاء پسند صیہونی وزراء بزالل اسموٹریچ اور ایتمار بن گویر کو دہشت گرد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مذکروہ دونوں وزراء اسرائیل کے دشمن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کے نمائندہ برائے امور مشرق وسطیٰ "اسٹیو ویٹکاف" نے آج مجھے خبر دی کہ ہماری پیش کردہ نئی تجاویز غزہ سے صیہونی قیدیوں کو واپس لائیں گی۔
ایھود اولمرٹ نے کہا کہ مجھے اس بات کا یقین ہے کہ "ڈونلڈ ٹرامپ" اور اسٹیو ویٹکاف جنگ بندی کے لئے "نتین یاہو" پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ سابق صیہونی وزیراعظم نے نتین یاہو کی کابینہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس انتظامیہ نے دنیا میں اسرائیل کا چہرہ خراب کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اب ہمارے ہاں ایسی نئی حکومت آنی چاہئے جو امن قائم کرنے اور دنیا میں اسرائیل کا امیج بہتر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ آخر میں ایھود اولمرٹ نے کہا کہ دو ریاستی حل اور مشرقی یروشلم کے دارالحکومت کے ساتھ آزاد فلسطینی ریاست کا قیام خطے میں امن قائم کرنے کا راستہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار
الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے سابق پینٹاگون عہدیدار مارک کینشین نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر اسلحہ استعمال کیے جانے کے باعث امریکا کو دیگر محاذوں پر سکیورٹی خدشات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اسلحہ ذخائر کو ایران جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس لانے میں 2 سے 5 سال لگ سکتے ہیں، جس سے اس عرصے کے دوران امریکا کو دیگر ممکنہ تنازعات کی صورت میں ایک کمزوری کی کھڑکی کا سامنا رہے گا۔
مارک کینشین کے مطابق ایران جنگ پر امریکا اب تک 37.5 ارب ڈالرز خرچ کرچکا ہے، جبکہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس ہفتے ایران جنگ اور مجموعی فوجی تیاریوں کے لیے مزید 70 ارب ڈالرز کی اضافی فنڈنگ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید جنگی حکمتِ عملی میں مہنگے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ سستے ڈرونز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور دونوں اقسام کے ہتھیار ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ مارک کینشین کے مطابق امریکا کے ڈرون ہتھیاروں میں سمندری ڈرونز بھی شامل ہیں، جو دھماکا خیز مواد سے لیس ریموٹ کنٹرول کشتیاں ہیں اور اطلاعات کے مطابق ایران میں ساحلی اہداف پر حملوں کے لیے استعمال کی جا چکی ہیں۔