صدر وزیراعظم کی خيبر پختونخوا میں کامیاب کارروائی پر فورسز کو خراج تحسین
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
صدر مملکت آصف علی زدراری اور وزیراعظم شہباز شریف نے خيبر پختونخوا میں خوارج کیخلاف کامیاب کارروائیوں پرسیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
صدر مملکت نے7 خوارج جہنم واصل کرنے پرسیکیورٹی فورسز کی بہادری کو سراہا اور شمالی وزیرستان میں شہید 4 جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔
انہوں نے دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے بھی کے پی میں7 دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر فورسز کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے شہداء کیلئے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبرواستقامت کی دعا کی۔
انہوں نے کہا کہ انسانیت کے دشمن دہشتگردوں کے مذموم عزائم خاک میں ملا دیں گے، دہشتگردی کی عفریت کو جلد جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دشمن اپنے عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے، حکومت اورسیکیورٹی فورسز ملک سےدہشتگردی کےمکمل سدباب کیلیے پُرعزم ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔