خیبر پی کے، بلوچستان: بھارتی پراکسی تنظیم سے جھڑپیں، لیفٹیننٹ اور 3 جوان شہید، 12 خوارج ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
اسلام آباد ( خبرنگار خصوصی ) خیبرپی کے میں بھارت کی پراکسی تنظیم فتنہ الخوارج سے سکیورٹی فورسز کی دو جھڑپوں میں 7 دہشت گرد ہلاک ہوگئے جبکہ فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں پاک فوج کے لیفٹیننٹ سمیت 4 اہلکار شہید ہوگئے۔سکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں کارروائیاں کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے 5 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ آئی ایس پی آر سے جاری بیان میں کہا گیا 28 اور 29 مئی کی درمیانی رات کو شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں بھارتی سرپرستی میں موجود خوارج نے سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر حملے کی کوشش کی۔ فتنہ الخوارج کے حملوں کو پاک فوج کے جوانوں نے بروقت اور موثر انداز میں ناکام بنا دیا، شدید فائرنگ کے تبادلے میں 6 خوارج ہلاک ہوئے۔ آئی ایس پی آر نے بتایا دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے کے دوران پاک فوج کا 24 سالہ لیفٹیننٹ دانیال اسماعیل اپنے دستے کی بہادری سے قیادت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا اور ان کا تعلق ضلع مردان سے تھا۔ کارروائی کے دوران نائب صوبیدار کاشف رضا، لانس نائیک فیاقت علی اور سپاہی محمد حمید نے بھی وطن پر اپنی جان قربان کی۔ ضلع چترال میں ہونے والی ایک اور جھڑپ میں بھی بھارتی سرپرستی میں موجود ایک خوارجی دہشت گرد کو جہنم واصل کیا گیا۔ مزید بتایا گیا کہ علاقے میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں تاکہ کسی بھی بھارتی سرپرست دہشت گرد کے باقیات کا خاتمہ کیا جا سکے، سکیورٹی فورسز نے وطن عزیز کو بھارتی سرپرستی میں دہشت گردی کے خطرے سے مکمل طور پر پاک کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور ہمارے شہدا کی یہ قربانیاں ہمارے عزم اور حوصلے کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فورسز نے بلوچستان کے ضلع لورالائی میں فتنہ الہندستان کے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر آپریشن کیا۔ سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 4 بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا، ہلاک دہشتگردوں سے ہتھیار، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا۔ دہشت گرد نیشنل ہائی پر 26 اگست 2024 کو تخریب کاری کے علاوہ 18 فروری2025 کے حملوں میں بھی ملوث تھے، جس میں 30 بے گناہ شہری شہید ہوئے تھے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک شدہ بھارتی سپانسرڈ دہشت گرد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انتہائی مطلوب تھے۔ فورسز نے دوسری کارروائی بلوچستان کے ضلع کیچ میں کی، جہاں ایک اور دہشت گرد ہلاک ہوا۔ آئی ایس پی آر نے مزید کہا پاکستان کی سکیورٹی فورسز ملک سے بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور دہشت گردی کے مرتکب افراد اور ان کے سہولت کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے قوم کے غیر متزلزل عزم کی توثیق کرتی ہیں۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے بلوچستان میں 2 مختلف کارروائیوں کے دوران فتنتہ الہندوستان کے 5 دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے عفریت کے خاتمے کے لیے کارروائیاں کر رہی ہیں۔ صدر مملکت نے انٹیلیجنس پر مبنی کامیاب آپریشن کے دوران بھارتی سپانسرڈ دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے پر سکیورٹی فورسز کی بہادری کو سراہا۔ انہوں نے ملک سے فتنتہ الہندوستان کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک فتنتہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان میں بھارتی سرپرستی میں شر انگیزی پھیلانے والے فتنہ الہندوستان کے پانچ دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے پر سکیورٹی فورسز کی پذیرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم اپنی افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ وزیراعظم نے لورالائی میں 4 دہشت گردوں جو بلوچستان میں بد امنی پھیلانے کے مختلف واقعات بالخصوص N-70 میں 30 معصوم لوگوں کی شہادت کے ذمہ داران میں شامل تھے، کو جہنم رسید کرنے پر سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کی ہے۔ وزیر اعظم نے ضلع کیچ میں بھارتی سرپرستی میں پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے والے مزید ایک دہشت گرد کو جہنم واصل کرنے پر افواج پاکستان کے افسران و جوانوں کی پذیرائی کی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھارتی پراکسیوں کے دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کیلئے افواج پاکستان شب و روز مصروف عمل ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم اپنی افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کرنے پر سکیورٹی فورسز بھارتی سرپرستی میں سکیورٹی فورسز کی افواج پاکستان الہندوستان کے دہشت گردوں کو بلوچستان میں کو جہنم واصل دہشت گردی کے نے بلوچستان میں بھارتی کرتے ہوئے فورسز نے کے دوران کے خلاف ایس پی
پڑھیں:
بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
اسلام ٹائمز: یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔ خصوصی رپورٹ:
بحرینی حکام نے سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے تحت جمعیۃ التوعیۃ الاسلامیۃ (اسلامی آگاہی سوسائٹی) کو تحلیل کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ یہ ادارہ بحرین میں شیعہ آبادی کی سب سے نمایاں ثقافتی اور سماجی تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔
یہ فیصلہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ اس کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی ہیں۔ بحرین کے شیعہ معاشرے میں اس تنظیم کی اہمیت کے پیش نظر، اسے نشانہ بنانا وسیع حلقوں کی نظر میں شیعہ برادری کے خلاف محدودیت پسند پالیسیوں کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے، خصوصاً گزشتہ برسوں میں اس طبقے کے خلاف کیے جانے والے متعدد اقدامات کے تناظر میں۔ یہ تنظیم، جو اس سے قبل بھی مختلف سخت اور غیر منصفانہ کارروائیوں کا نشانہ بن چکی ہے، 1972ء میں بحرین کے ممتاز دینی علماء کے ایک گروہ نے آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم کی قیادت میں قائم کی تھی۔ بعد ازاں یہ بحرین اور خطے کی سب سے بڑی ثقافتی اور سماجی تنظیموں میں شمار ہونے لگی۔
اس تنظیم کی تحلیل کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بحرینی حکام نے پہلی مرتبہ فروری 1984ء میں اس تنظیم کو بند کیا تھا اور یہ پابندی 2001ء تک برقرار رہی۔ بعد ازاں قومی منشور پر ہونے والے ریفرنڈم اور ملک میں نسبتاً سیاسی کشادگی کے دور میں اسے دوبارہ سرگرمیوں کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد جون 2016ء میں، شیعہ مذہبی شخصیات اور اداروں کے خلاف وسیع کارروائیوں کے دوران، حکام نے ایک مرتبہ پھر اس تنظیم کو تحلیل کرنے کا حکم جاری کیا۔ 9 جون 2022ء کو تحلیل کا فیصلہ منسوخ کر دیا گیا اور تنظیم نے اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں، تاہم اس کی سرگرمیاں مسلسل مختلف پابندیوں کے حصار میں رہیں۔
ان پابندیوں میں قانونی و انتظامی کارروائیاں، تنظیم سے وابستہ ذمہ داران کے خلاف مقدمات، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تحلیل اور بعض سرگرمیوں کی جبری معطلی شامل تھیں۔ بالآخر تنظیم کے سربراہ اور تین دیگر کارکنان کو بھی اسی ادارے میں اپنی سرگرمیوں کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا، جسے اپوزیشن اور مخالف حلقوں کے ساتھ سکیورٹی طرزِ عمل کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے اجرا کے ساتھ اسلامی آگاہی سوسائٹی ایک بار پھر اپنی مسلسل بندشوں اور پابندیوں کی تاریخ کے نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت نے بحرین میں مذہبی آزادیوں کے بارے میں مزید سوالات کو جنم دیا ہے، حالانکہ حکومت خود کو رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا داعی قرار دیتی ہے۔
اس تنظیم کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تاریخی ترتیب کا جائزہ لیا جائے تو حالیہ تحلیل کو محض ایک انتظامی یا قانونی اختلاف قرار دینا مشکل دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ 54 برس قبل اپنے قیام سے لے کر آج تک یہ ادارہ اپنی ثقافتی، سماجی اور دینی شناخت کے حوالے سے جانا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب، تنظیم کو بند کرنے کے اقدامات کو ملک کے سب سے بڑے سماجی طبقے کے حوالے سے حکومتی تنگ نظری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ پالیسیاں معاشرے کو قابو میں رکھنے اور محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو باہمی اعتماد کو کمزور کرتی ہیں اور بحرین کے وسیع ترین عوامی طبقے کو سیاسی و سماجی طور پر حاشیے پر دھکیلنے کے رجحان کو مزید تقویت دیتی ہیں۔