پاکستان کو تین بار ضرب لگائی ،آپریشن سندور‘‘ ابھی ختم نہیں ہوا، مودی کادعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
نئی دہلی: جنگی جنون میں مبتلابھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے پاکستان سے شکست کی ہزیمت پرپردہ ڈالنے کی کوشش کرتےہوئے کہاہے کہ آپریشن سندور‘‘ ابھی ختم نہیں ہوا، ہم نے پاکستان کے گھر کے اندر تین بار ضرب لگائی ہے۔
سکم میں ایک عوامی اجتماع سے آن لائن خطاب کرتےہوئے مودی نے دعویٰ کیاکہ پہلگام حملے میں دہشت گردوں نے صرف بھارت کو نہیں بلکہ پوری انسانیت کو نشانہ بنایا، بھارت نے پاکستان اور دہشت گردوں کو آپریشن سندور کے ذریعے کرارا جواب دیا۔
انہوں نے کہاکہ ہم دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو ایک واضح پیغام بھیجتے ہیں، مایوس پاکستان نے ہمارے شہریوں اور فوجیوں پر حملے کی کوشش کی، لیکن پاکستان بے نقاب ہوا اور ہم نے ان کے ایئربیس تباہ کر دیے۔
انہوں نے کہاکہ سیاحت صرف تفریح نہیں بلکہ تنوع کا جشن ہے لیکن جو کچھ دہشت گردوں نے پہلگام میں کیا، وہ صرف بھارت پر حملہ نہیں تھا بلکہ انسانیت کی روح پر حملہ تھایہ بھائی چارے پر حملہ تھا۔ انہوں نے بھارتیوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی لیکن آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ بھارت پہلے سے زیادہ متحد ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔