UrduPoint:
2026-06-03@04:26:15 GMT

امریکہ: ٹرک الٹنے سے 25 کروڑ مکھیاں ’فرار‘

اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT

امریکہ: ٹرک الٹنے سے 25 کروڑ مکھیاں ’فرار‘

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 31 مئی 2025ء) حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ متاثرہ علاقے سے دور رہیں تاکہ ڈنک مارنے والے جھنڈ سے بچا جا سکے۔

واٹکوم کاؤنٹی شیرف آفس کے مطابق یہ حادثہ شمال مغربی واشنگٹن ریاست میں کینیڈا کی سرحد کے قریب لنڈن کے علاقے میں پیش آیا۔

ٹرک میں تقریباً شہد کی مکھیوں کے تیس ہزار کلو گرام سے زائد چھتّے منتقل کیے جا رہے تھے۔

شیرف آفس نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا۔ ''اب 250 ملین مکھیاں آزاد ہو چکی ہیں۔ مکھیاں بھاگنے اور جھنڈ بنانے کے خطرے کے پیش نظر علاقے سے دور رہیں۔‘‘

زیادہ سے زیادہ مکھیوں کو بچانے کی کوشش

حادثے کے بعد علاقے کی سڑکیں بند کر دی گئیں جبکہ شہد کی مکھیوں کے ماہرین اور شہد کی مکھیاں پالنے والے افراد ان بے قابو ہو جانے والی مکھیوں کو قابو میں کرنے اور انہیں بچانے میں مصروف ہیں۔

(جاری ہے)

شیرف آفس نے بتایا، ''ہماری کمیونٹی میں شہد کی مکھیاں پالنے والے ماہرین رضاکارانہ طور پر مدد فراہم کر رہے ہیں تاکہ پولینیشن کرنے والی لاکھوں مکھیوں کو بحفاظت بچایا جا سکے۔‘‘

حکام کا کہنا ہے کہ اگلے ایک دو دن میں مکھیاں واپس اپنے چھتّوں اور ملکہ مکھی کے پاس آ جائیں گی۔ مقصد یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ مکھیوں کو زندہ رکھا جائے۔

مکھیوں کا زراعت میں کردار

شہد کی مکھیاں پھول دار فصلوں کی پولینیشن (زرخیزی) میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ سو سے زائد اقسام کی فصلوں جیسے میوے، سبزیاں، گریاں، بیریز، مالٹے اور خربوزے وغیرہ میں پولینیشن کا کام کرتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق شہد کی مکھیوں اور پولینیشن کرنے والے دوسرے کیڑوں کی تعداد میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔

اس کی وجوہات میں کیڑے مار دوائیاں، بیماریاں، ماحولیاتی تبدیلیاں اور متنوع خوراک کی سپلائی میں کمی شامل ہیں۔ یہ صورتحال دنیا بھر میں زراعت اور غذائی تحفظ کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

ادارت: عرفان آفتاب

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے شہد کی

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • مردان قتل کیس: ملزمان مغوی بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار، تحقیقات جاری
  • مردان: 3 افراد کو قتل کرنیوالے ملزمان انکے 2 بچے چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز