پاکستان کی معیشت میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا اہم کردار ہے۔ ان کی بھیجی گئی ترسیلات زر براہ راست معیشت کو سہارا دے رہی ہیں۔ تاہم بیرون ملک جانے والوں کے لیے بھی مشکلات کھڑی ہیں جنہیں پار کرنا ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہ۔ ان مسائل کو حل کرکے اور اسکل ڈیویلپمنٹ پر توجہ دے کر نہ صرف زیادہ تعداد میں افرادی قوت باہر بھیجی جا سکتی ہے بلکہ ترسیلات زر میں بھی کافی حد تک اضافہ ممکن ہے۔

اوورسیز امپلائمنٹ پروموٹرز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین محمد عدنان پراچہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران ترسیلات زر میں اضافہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہیں ان کی وجہ سے اس مالی سال میں ترسیلات زر 36 ملین ڈالر تک جانے کا امکان ہے جبکہ اگلے مالی سال میں یہ بڑھ کر 44 ملین ڈالرز تک پہنچ سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے ترسیلات زر میں مسلسل اضافے کی وجوہات کیا ہیں؟

محمد عدنان پراچہ کے مطابق اس وقت باہر جانے والے افراد کا پراسیس بہت مشکل بنا دیا گیا ہے۔ بعض ممالک میں جانے کے لیے یہاں میڈیکل کے مسائل  کا سامنا ہے کیونکہ ان کی فیس بہت بڑھ چکی ہے جسے ادا کرنا بہت سارے لوگوں کے لیے مشکل ہوجاتا ہے۔

دوسرا بائیومیٹرک کا پراسیس ہے جس کے لیے باہر جانے والوں کی صبح پانچ، پانچ بجے سے لمبی قطاریں لگنا شروع ہو جاتی ہیں۔

اس کے بعد اسکل ٹیسٹ کی بات کی جائے تو اس میں شفافیت کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ یہ اگر شفاف نہیں ہوگا تو جو ڈیمانڈ ہے اس کے مطابق لوگ باہر نہیں جائیں گے جس کے نتیجے میں ان ممالک کی شکایات آنا شروع ہو جائیں گی اور پھر ہمیں محدود کردیا جائے گا۔ اس وقت حکومت اور چیف آف آرمی اسٹاف کو یہ معاملات دیکھنا ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے پاکستان کے کونسے 9 شہروں کے افراد کے بیرون ملک جانے پر کڑی نظر رکھی جائے گی؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ لوگوں کو اسکل فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کوئی ایسا کام نہیں ہے کہ آپ 3 ماہ میں سرٹیفیکیٹ دے کر یہاں سے نوجوانوں کو باہر بھیج دیں۔ اس کا نقصان زیادہ ہے، فائدہ نہیں ہے۔ تاہم جب آپ انہیں ہنر دیں گے، ان کی پریکٹس کرائیں گے تو اس کا فائدہ ان لوگوں کو بھی ہوگا اور ملک کو بھی ہوگا کیوں کہ باہر جانے والوں کی کٹیگری بہتر ہو جائے گی۔

محمد عدنان پراچہ کے مطابق اگر مسائل کو سنجیدگی سے دیکھا جائے تو اس وقت افرادی قوت میں 25 فیصد کا اضافہ ممکن ہے جس کا براہ راست تعلق پاکستان کی ترسیلات زر سے ہے۔ اور اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب نہ ہوئے تو ہمارا کوٹہ کسی اور ملک کو دے دیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ترسیلات زر میں بیرون ملک کے لیے

پڑھیں:

27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ

عیدالاضحیٰ کی تعطیلات کے دوران پاکستان ریلوےکو(pakstan railways) کو 90کروڑ 30 لاکھ روپے سے زائد کمائی ہوئی، 4 لاکھ سے زائد مسافروں نے ٹرین سے سفر کیا ۔

27 مئی سے یکم جون کے دوران ریلویز نے 90 کروڑ تیس لاکھ روپے کمائے۔ 27 جون کو 8 کروڑ 70 لاکھ ،28 جون کو 13 کروڑ 80 لاکھ روپے ریلوے کی کمائی میں آئے ۔

مزید پڑھیں:حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان

29 مئی کو 14 کروڑ 80 لاکھ اور 30 مئی کو ریلوے نے 17 کروڑ روپے کمائے۔ 31 مئی کو 16 کروڑ 70 لاکھ اور یکم جون کو پاکستان ریلوے نے 19 کروڑ 30 لاکھ کمائے ۔

متعلقہ مضامین

  • کم از کم ماہانہ اجرت کتنی ہونی چاہیے؟  نئے مالی سال کے لیے سفارش کردی گئی
  • گھر کے شیر باہر ڈھیر، ویمنز ٹیم ٹرائنگولر سیریز میں مشکلات کا شکار
  • خان سر کے کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ، کوچنگ سینٹر کو دو دن میں اڑانے کی دھمکی دی گئی
  • لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم