پانی میں بہہ جانے والے کرنل اور بیٹی کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن کیسے کیا جا رہا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
گزشتہ روز سے راولپنڈی کی ہاؤسنگ سوسائٹی کے فیز 5 میں ہونے والی موسلادھار بارش کے پانی میں بہہ جانے والے ریٹائرڈ کرنل اور ان کی بیٹی کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن آج دوسرے روز پھر سے شروع کر دیا گیا ہے، تین مختلف ریسکیو ٹیمیں اب بھی مختلف مقامات پر تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ رات 2 بجے تک آپریشن جاری رہا، کرین کی مدد سے گاڑی کو نالے میں تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی رہی البتہ رات کو بارش سے ایک مرتبہ پھر سے پانی کا بہائو زیادہ ہو گیا جس پر آپریشن کو روک دیا گیا تھا۔
ریٹائرڈ کرنل اور ان کی بیٹی کی تلاش کے لیے آج صبح ایک مرتبہ پھر سے آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، آج تین ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور ٹیمیں تین مختلف مقامات پر ریسکیو کشتیوں کے ذریعے تلاش کر رہی ہیں، ایک ٹیم جائے وقوعہ سے سواں پل تک تلاش کر رہی ہے، دوسری ٹیم سواں پل سے آپ سٹریم کی جانب مخالف سمت میں تلاش کر رہی ہے جبکہ تیسری ٹیم کا سرچ آپریشن سواں پل سے ڈاؤن سٹریم گورکھپور تک جاری ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد: نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں کار نالے میں بہہ گئی، باپ بیٹی کی تلاش جاری
پولیس تھانہ سہالہ، سوان ڈویژن کے مطابق ریٹائرڈ کرنل اسحاق قاضی، جن کی عمر تقریباً 62 سے 64 سال کے درمیان بتائی گئی ہے، گزشتہ صبح اپنی تقریباً 25 سالہ بیٹی کے ہمراہ گھر سے گرے ہونڈا سٹی کار میں روانہ ہوئے۔
بارش کے پانی کی وجہ سے سڑک پر شدید پانی جمع تھا، انہوں نے گاڑی برساتی نالے کے قریب سے گزارنے کی کوشش کی، اسی اثنا میں ان کی گاڑی بند ہو گئی۔ کرنل اسحاق جیسے ہی گاڑی کو دوبارہ اسٹارٹ کرنے کی کوشش کر رہے تھے، پانی کی روانی تیز ہو گئی اور گاڑی نالے میں بہہ گئی، جس کے ساتھ ہی دونوں افراد بھی پانی کی لپیٹ میں آ گئے۔ باپ بیٹی گاڑی سے مدد کے لیے آوازیں بھی لگاتے دکھائی دئیے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، ڈی ایچ اے سیکیورٹی اسٹاف، ریسکیو 1122 اور غوطہ خوروں کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی اور تلاش کا عمل شروع کر دیا گیا۔ اب تک دونوں افراد کا سراغ نہیں مل سکا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پولیس تھانہ سہالہ، راولپنڈی ریسکیو 1122 موسلادھار بارش ہاؤسنگ سوسائٹی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: راولپنڈی ریسکیو 1122 موسلادھار بارش ہاؤسنگ سوسائٹی بیٹی کی تلاش تلاش کر میں بہہ دیا گیا کے لیے
پڑھیں:
نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔
پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔
گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔
گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟
پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔
بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔
سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔