انفارمیشن کمیشن نے شہریوں کو معلومات فراہم نہ کرنے پر متعدد افسران کو شوکاز نوٹس جاری کر دیئے WhatsAppFacebookTwitter 0 23 July, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز)پاکستان انفارمیشن کمیشن (پی آئی سی)نے متعدد وفاقی اداروں کے سینئر افسران کو شہریوں کی جانب سے مانگی گئی عوامی معلومات فراہم نہ کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کر دیے۔
پاکستان انفارمیشن کمیشن نے متعدد وفاقی عوامی اداروں کے سینئر افسران کو 2017 کے رائٹ آف ایکسیس ٹو انفارمیشن ایکٹ کی شقوں پر مسلسل عمل نہ کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کر دیے ۔یہ فیصلہ ان افسران کی جانب سے کمیشن کے سامنے پیش نہ ہونے اور شہریوں کی جانب سے مانگی گئی عوامی معلومات فراہم نہ کرنے کی بار بار ناکامی کے بعد کیا گیا ہے۔
اپیل نمبر 3875-08/24 بعنوان فاروق داد بمقابلہ وزارت امور خارجہ میں کمیشن نے نوٹ کیا کہ وزارت خارجہ کے نامزد افسر کی طرف سے ایک اور توسیع کی درخواست موصول ہوئی ہے، اس سے پہلے بھی متعدد مرتبہ التوا کی درخواستیں دی جا چکی ہیں، جس سے اپیل کے فیصلے میں غیر ضروری تاخیر ہو رہی ہے، جو قانون کی روح کے خلاف ہے۔اس مسلسل عدم تعاون کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے کمیشن نے انفارمیشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 20(1)(f) کے تحت نامزد افسر (ترجمان)کو شوکاز نوٹس جاری کیا ہے، تاکہ وہ وضاحت کریں کہ ان کے خلاف عدم تعمیل کی کارروائی کیوں نہ شروع کی جائے۔
کمیشن نے وزارت خارجہ کے ترجمان، جو نامزد پبلک انفارمیشن آفیسر بھی ہیں، کو بھی اسی دفعہ کے تحت شوکاز نوٹس جاری کرنے کی ہدایت دی ہے، مزید برآں کمیشن نے وزارت خارجہ کے سیکرٹری، جو اس عوامی ادارے کے سربراہ ہیں، کو آگاہ کیا ہے کہ اگر وزارت کی طرف سے کوئی جواب موصول نہ ہوا تو معاملہ یکطرفہ طور پر نمٹا دیا جائے گا۔
اسی طرح، کمیشن نے دفعہ 20(1)(f) کے تحت اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، فیڈرل گورنمنٹ پولی کلینک پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی)کے منیجنگ ڈائریکٹر، اور نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا)کے پبلک انفارمیشن آفیسر کو بھی شوکاز نوٹس جاری کیے ہیں۔یہ نوٹس ان افسران کی کمیشن کی مقررہ سماعتوں میں مسلسل عدم حاضری اور شہریوں کی طرف سے مانگی گئی معلومات فراہم نہ کرنے پر جاری کیے گئے ہیں، حالانکہ متعدد بار نوٹسز جاری کیے جا چکے تھے۔
کمیشن نے عوامی اداروں کے افسران کی عدم حاضری پر اظہار برہمی کیا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کا رویہ شہریوں کو ان کے حق معلومات کی فراہمی میں بلاوجہ تاخیر کا باعث بنتا ہے، کمیشن نے واضح کیا کہ اس طرح کی عدم تعمیل شہریوں کے بنیادی حق معلومات کو نقصان پہنچاتی ہے۔ رائٹ آف ایکسیس ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017 ہر شہری کو وفاقی عوامی اداروں سے عوامی ریکارڈ تک رسائی کا حق دیتا ہے، جیسا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 19-A میں درج ہے۔پاکستان انفارمیشن کمیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ عوامی اداروں میں شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنانے اور شہریوں کے آئینی حق معلومات کا تحفظ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرخسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری معاشی بہتری کیلئے ناگزیر ہے، وزیراعظم خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری معاشی بہتری کیلئے ناگزیر ہے، وزیراعظم نومئی کرنے اور کرانے والے پاکستان کے اصل دشمن ہیں، عظمی بخاری سلامتی کونسل میں کھلا مباحثہ، پاکستانی سفیر نے بھارت کا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا بانی ٹی آئی کی گرفتاری اور سزا کو نہیں مانتے، غیر قانونی فیصلے واپس لینا ہونگے، وزیر اعلی خیبرپختونخوا چولستان میں نایاب پرندے گریٹ انڈین بسٹرڈکی موجودگی کا نیا ریکارڈ قائم سابق گورنر پنجاب اور تحریک انصاف کے سینئر رہنما میاں اظہر انتقال کر گئے، اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان کا اظہار افسوس TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: معلومات فراہم نہ کرنے پر انفارمیشن کمیشن نے شوکاز نوٹس جاری کر عوامی اداروں افسران کو کیا ہے

پڑھیں:

پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع

توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے