پانی کے ریلے میں بہہ جانے والے کرنل (ر) اسحاق، ان کی 25 سالہ بیٹی کی تلاش کے لیے آپریشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
اسلام آباد پرائیوٹ ہاوسنگ سوسائٹی سے پانی کے ریلے میں بہہ جانے والے کرنل ریٹائرڈ اسحاق اور ان کی 25 سالہ بیٹی کی تلاش کے لیے دوسرے روسرے روز بھی آپریشن جاری ہے، راولپنڈی اسلام آباد کے امدادی ادارے مختلف مقامات پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کررہے ہیں۔
گزشتہ روز اسلام آباد کی پرائیوٹ ہاوسنگ سوسائٹی میں باپ بیٹی گاری سمیت سیلابی ریلے میں بہہ گئے تھے، افسوسناک واقع کی ویڈیو بھی سامنے آئی جس میں دیکھا جاسکتا تھا کہ گاڑی میں سوار افراد مدد کے لیے پکار رہے ہیں، پانی کا بہاو زیادہ ہونے کی وجہ سے گاڑی نالے سے دریائے سواں کی جانب بھڑی لیکن پھر کہاں گئی کچھ پتا نہیں چل رہا۔
راولپنڈی ریسکیو 1122 کی غوطہ خور ٹیمیں، سی ڈی اے کا عملہ اور دیگر ادارے دوسرے روز بھی دریائے سواں کے مختلف مقامات پر سرچ آپریشن کررہے ہیں لیکن ابھی تک گاڑی کا سراغ نہیں لگایا جاسکا۔
ریسکیو اینڈ سرچ اپریشن میں ہیوی مشینری کا بھی استعمال کیا جارہا ہے۔
امدادی ذرائع کا کہنا تھا کہ آپریشن کو مزید وسیع کردیا ہے، تین مختلف مقامات پر آپریشن کیا جارہا ہے، جس میں درجنوں امدادی کارکن حصہ لے رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔