کونسی مشہور ایپ اینڈرائیڈ فونز کی بیٹری تیزی سے ضائع کر رہی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے انکشاف کیا ہے کہ دنیا بھر میں دو ارب افراد کے زیر استعمال ایک مشہور ایپلی کیشن کچھ اسمارٹ فونز میں بیٹری کے ضائع ہونے کا سبب بن رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق فوٹو اور ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام کے سبب گوگل پکسل اسمارٹ فونز کو خاص طور پر بیٹری مسائل کا سامنا ہے۔ البتہ، یہ بات واضح نہیں ہے کہ آیا دیگر اینڈرائیڈ فونز کو بھی اس ہی مسئلے کا سامنا ہے یا نہیں۔
اینڈرائیڈ سپورٹ فورم پر گوگل کے ایک نمائندے نے بتایا کہ انسٹاگرام نے اس حوالے سے اپ ڈیٹ جاری کر دی ہے اور اس مسئلے کو اب حل ہو جانا چاہیئے۔
کمیونیٹی منیجر عادل شیخ کا کہنا تھا کہ انسٹاگرام ایک اپ ڈیٹڈ ایپ جاری کر رہا ہے جس سے اینڈرائیڈ ڈیوائسز میں بیٹری خرچ ہونے کا مسئلہ حل ہوجانا چاہیئے۔
انہوں نے کہا کہ صارفین اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے پاس انسٹاگرام کا تازہ ترین ورژن (382.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔