برطانیہ، قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے والا ملعون مجرم قرار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
غیر ملکی خبررساں اداروں ’اے ایف پی‘ اور ’رائٹرز‘ کی رپورٹس کے مطابق لندن کی ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ عدالت نے فروری میں لندن میں ترک قونصل خانے کے باہر قرآن پاک کے نسخے کی بے حرمتی کے الزام میں ملزم پر 240 پاؤنڈ (325 ڈالر) کا جرمانہ عائد کیا۔ اسلام ٹائمز۔ لندن میں ترک قونصل خانے کے باہر قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے والے ملعون کو مجرم قرار دے دیا گیا، اس فیصلے کو ناقدین نے منسوخ شدہ توہین مذہب کے قانون کی بحالی قرار دیا ہے۔ غیر ملکی خبررساں اداروں ’اے ایف پی‘ اور ’رائٹرز‘ کی رپورٹس کے مطابق لندن کی ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ عدالت نے فروری میں لندن میں ترک قونصل خانے کے باہر قرآن پاک کے نسخے کی بے حرمتی کے الزام میں ملزم پر 240 پاؤنڈ (325 ڈالر) کا جرمانہ عائد کیا۔
ملزم کے وکیل نے دلیل دی تھی کہ یہ مقدمہ توہین مذہب کے اس قانون کو واپس لانے کی کوشش کے مترادف ہے جو انگلینڈ میں 2008 میں منسوخ کر دیا گیا تھا۔ ملزم نے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر کہا کہ وہ ترک حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے تھے اور جب ہاتھ میں پکڑی کتاب کو لہرا رہے تھے، تو اس دوران ایک شخص نے چاقو سے ان پر حملہ کیا اور انہیں لاتیں ماریں۔ جج جان میک گاروا نے کہا کہ اگرچہ کسی مذہبی کتاب کو جلانا کچھ لوگوں کے لیے جارحانہ ہے لیکن ضروری نہیں کہ یہ بدنظمی میں آتا ہو۔
جج نے کہا کہ ان کے اس عمل کو بدنظمی، ان کے عمل کے وقت اور مقام کے علاوہ ان کی بدزبانی نے بنایا جب کہ انہیں ’گالی‘ دینے اور اپنے عمل کو اسلام سے جوڑنے کی ضرورت نہیں تھی۔ جج نے کہا کہ جہاں آپ نے قرآن پاک کے نسخے کو نذر آتش کیا، آپ کے اقدامات انتہائی اشتعال انگیز تھے اور آپ نے بدزمانی بھی کی جو جزوی طور پر مذہب کے پیروکاروں سے نفرت کی وجہ سے تھی۔ ریاستی پراسیکیوٹرز نے اصرار کیا کہ ’عوام میں ان کے بدنظمی پر مبنی رویے‘ کے لیے پراسیکیوٹ کیا جا رہا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی بے حرمتی قرآن پاک کہا کہ
پڑھیں:
امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو ایکسچینجز پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی خبر ایجنسی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے مجوزہ حتمی منصوبے پر اب تک کوئی جواب نہیں بھیجا ہے۔
مہر نیوز کی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی مجوزہ منصوبے پر ایران میں بات چیت جاری ہے، امریکی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایرانی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر، ایران ٹھوس اور حقیقی فوائد حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔