قرآن و سنت سے ٹکراؤ کے کسی بل کو تسلیم نہیں کرینگے، شاداب رضا نقشبندی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ اسلام منافی بل کے ذریعے جائز نکاح میں رکاوٹ ڈالی جارہی ہے، متنازعہ بل ملک میں سیکولر ازم اور فحاشی کو جنم دیں گے، حکومت فوری طور پر شادی بل کو ختم کرکے قرآن و سنت کی روشنی میں قانون سازی کرے۔ اسلام ٹائمز۔ سربراہ پاکستان سنی تحریک محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ قرآن و سنت سے ٹکراؤ کے کسی بل کو تسلیم نہیں کرینگے، 18 سال سے کم عمر کی شادی پر پابندی کا قانون قرآن و سنت کے خلاف ہے حکومت فوری ختم کرے، قرآن و سنت کو نظر انداز کرکے قانون سازی غیر آئینی اور آئین کی روح کے منافی ہے، اسلام سب سے زیادہ بچوں اور بچیوں کو ان کے حقوق دیتا ہے اور تحفظ فراہم کرتا ہے، اسلامی شناخت کو ختم ہونے نہیں دیں گے، قرآن و سنت کے منافی شادی میرج بل کو مسترد کرتے ہیں، ہمارے لئے سپریم لاء قرآن و سنت ہے اس کے منافی کسی بل کو تسلیم نہیں کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے 18 سال سے کم عمر کی شادی پر پابندی کے بل کو مسترد کرتے ہوئے کیا۔
محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ اسلام منافی بل کے ذریعے جائز نکاح میں رکاوٹ ڈالی جارہی ہے، متنازعہ بل ملک میں سیکولر ازم اور فحاشی کو جنم دیں گے، حکومت فوری طور پر شادی بل کو ختم کرکے قرآن و سنت کی روشنی میں قانون سازی کرے، پاکستان سنی تحریک کے علماء بورڈ کو بھی متنازعہ شادی بل کے حوالے رجوع کیا ہے اس کی مکمل تحقیقات کرے گا، علماء بورڈ کے موقف کو میڈیا کے سامنے لائیں گے، پاکستان کا آئین بھی شریعت سے متنازعہ بل کی اجازت نہیں دیتا، حکومت فوری طور پر اس بل کو ختم کرکے شریعت کی روشنی میں قانون سازی کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حکومت فوری کو ختم
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت