پنجاب: دفعہ 144 کے تحت مختلف پابندیاں عائد
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
---فائل فوٹو
صوبۂ پنجاب میں دفعہ 144 کے تحت مختلف پابندیاں عائد کر دی گئیں۔
پنجاب کے محکمۂ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے حکم نامے کے مطابق کبوتر بازی، آتش بازی، ڈرون، لیزر لائٹ کے استعمال اور آلائشیں پھینکنے پر پابندی ہوگی، صوبے بھر میں پابندیوں کا اطلاق 5 جون سے 20 جون تک ہوگا۔
حکم نامے کے مطابق یہ فیصلہ انسانی جانوں اور املاک کو محفوظ بنانے کے لیے کیا گیا، پرندے آلائشوں کی جانب راغب ہوتے ہیں جو طیاروں اور مسافروں کے لیے خطرات کا باعث ہے۔
محکمۂ داخلہ پنجاب نے شہریوں کو تنبیہ کی ہے کہ عوام کالعدم تنظیموں اور ان کے ذیلی اداروں کو قربانی کی کھالیں نہ دیں، انسدادِ دہشتگردی ایکٹ 1997ء کے تحت کالعدم تنظیموں کی معاونت جرم ہے۔
محکمۂ داخلہ نے حکم نامے میں کہا ہے کہ تمام ڈپٹی کمشنرز ایئرپورٹس اور گرد و نواح میں صفائی کا خاص انتظام یقینی بنائیں۔
محکمۂ داخلہ کے مطابق پنجاب بھر میں پابندی کا اطلاق ہوائی اڈوں اور ایئر بیسز کے اطراف 15 کلو میٹر تک ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ(Budget) میں جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی تجاویز تیار کر لی ہیں، جن کا مقصد ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق بجٹ تجاویز کے تحت فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر عائد ٹیکس کی شرح موجودہ 1.5 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح جائیداد کی فروخت پر عائد ٹیکس کو 4.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ان اقدامات کے ذریعے پراپرٹی مارکیٹ میں موجود جمود کو ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو اور تعمیراتی شعبہ دوبارہ متحرک ہو سکے۔
تاہم ان تجاویز پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ٹیکسوں میں مجوزہ کمی کی مخالفت کر رہا ہے اور اسے حکومتی آمدن پر ممکنہ اثرات کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ ٹیکس شرحوں میں کمی سے جائیداد کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں لین دین کا حجم بڑھنے سے مجموعی ٹیکس وصولیوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کا یہ بھی خیال ہے کہ تعمیراتی سرگرمیوں کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کے مختلف شعبوں کو فائدہ پہنچے گا۔
ذرائع کے مطابق ان تجاویز کے حتمی خدوخال آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد آئندہ بجٹ میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔