بیروت میں لبنانی اسپیکر پارلیمنٹ کیساتھ ملاقات کے بعد صحافیوں کیساتھ گفتگو میں ایرانی وزیر خارجہ نے تاکید کی ہے کہ ہم ایران و لبنان کے درمیان سیاسی و اقتصادی تعلقات کو زیادہ سے زیادہ توسیع دینے کی کوششیں جاری رکھیں گے، اور زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم لبنان کی مکمل آزادی، خود مختاری و جغرافیائی سالمیت کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اسلام ٹائمز۔ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے آج بیروت میں لبنانی وزیر خارجہ یوسف رجی، صدر جوزف عون اور اسپیکر پارلیمنٹ نبیہ بری سمیت متعدد اعلی حکام کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ملاقاتوں کے بعد صحافیوں کے ساتھ گفتگو میں تاکید کی ہے کہ خوش قسمتی سے مَیں نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی و سیاسی تعلقات کی توسیع کے حوالے سے لبنان کے نئے صدر و اعلی حکام میں بھی یہی عزم دیکھا ہے.

. اور ہم اپنے سیاسی تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لئے آگے بڑھتے رہیں گے۔
سید عباس عراقچی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، لبنان کی مکمل آزادی، خودمختاری و جغرافیائی سالمیت کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایسے باہمی تعلقات چاہتے ہیں کہ جو باہمی احترام، دوطرفہ مفادات کے حصول اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت پر مبنی ہوں۔

ایرانی خبررساں ایجنسی فارس نیوز کے مطابق سید عباس عراقچی نے تاکید کی کہ ہم قابض صیہونی رژیم کی جانب سے لبنانی سرزمین کے کئی ایک حصوں پر ناجائز قبضے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور غاصب قوتوں کو کسی بھی طرح سے، بشمول سفارتکاری کے، نکال باہر کر دینے پر مبنی لبنانی حکومت و عوام کی ہر قسم کی کوششوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم لبنان میں قومی مذاکرات، قومی اتحاد اور قومی اتفاق رائے کی بھی مکمل حمایت کرتے ہیں اور لبنان کے تمام گروہوں، نسلوں و قبائل کے کسی بھی باہمی فیصلے کی بھی کھل کر حمایت کریں گے۔ اپنی گفتگو کے آخر میں سید عباس عراقچی نے یاددہانی کرواتے ہوئے کہا کہ یہ مذاکرات صرف لبنانیوں سے متعلق ہیں اور کسی بھی بیرونی فریق کو ان میں مداخلت کا حق حاصل نہیں ہے!

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سید عباس عراقچی نے حمایت کرتے ہیں کی مکمل کہا کہ

پڑھیں:

گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف

ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت