پاکستان کی سفارتی کامیابیاں، بھارت کی بالادستی کا خاتمہ: اسحاق ڈار کی اہم بریفنگ
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دفتر خارجہ میں صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں اور کامیابیوں کی تفصیل بتائی۔ انہوں نے کہا کہ 19 مئی کو چین کا دورہ بنیادی طور پر دو طرفہ تھا، تاہم چین نے سہ فریقی اجلاس کے لیے افغانستان کو بھی شامل کرنے کی تجویز دی، جسے پاکستان نے خوش دلی سے قبول کیا۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ یہ دورہ 10 مئی کے بعد چین کا پہلا دورہ تھا، جس کا مقصد چینی قیادت کا شکریہ ادا کرنا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 24 اپریل کو چینی وزیر خارجہ وانگ ژی سے پہلی بار بات ہوئی، جس میں بھارت کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے جھوٹے الزامات کی وضاحت کی گئی۔ چینی دفتر خارجہ نے اس حوالے سے مثبت بیان بھی جاری کیا۔
انہوں نے کہا کہ 10 یا 11 مئی کی رات وزارت خارجہ نے اس دورے کی اطلاع ٹویٹ کی تھی، جس میں چین نے افغان وزیر خارجہ کو سہ فریقی اجلاس کے لیے دعوت دینے کی درخواست کی تھی، جسے پاکستان نے فوراً قبول کیا۔ اس ضمن میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے بھارتی حملے کے بعد آزادانہ تحقیقات کی پیشکش کو چینی حکام نے سراہا ہے۔
نائب وزیراعظم نے بتایا کہ بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پاکستانی وفد واشنگٹن موجود ہے، جس میں 4 سابق وزرائے خارجہ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 23 اپریل سے 10 مئی تک دنیا کو حقائق واضح کیے اور عالمی برادری کو مسلسل آگاہ رکھا۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے ایف 16 طیارہ گرائے جانے کے دعوے کو غلط قرار دیا اور بتایا کہ امریکا نے بھی اس دعوے کی تردید کی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ انہوں نے کشیدگی کے دوران 60 سے زائد ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطہ کیا اور سفارتی کوششوں کی بدولت بھارت کی بالادستی کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کامیابی پر ترکی اور آذربائیجان میں عوام نے خوشیاں منائیں اور ترکی کے وزیر خارجہ خاقان فیدان نے بھارتی حملے کی اطلاع ملتے ہی فوری رابطہ کیا، جو دوستی کا ایک مثالی مظہر ہے۔
انہوں نے معاون خصوصی طارق فاطمی کے روس میں اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں کا ذکر بھی کیا۔ کہا وزیراعظم شہباز شریف کے ترکی دورے میں آرمی چیف بھی ان کے ساتھ تھے، جہاں متعدد دوطرفہ ملاقاتیں ہوئیں اور ترکی و آذربائیجان کی جانب سے کشیدگی کے دوران پاکستان کی حمایت کا شکریہ ادا کیا گیا۔
نائب وزیراعظم نے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو ایک آواز بن کر قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنے پر خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اس اتحاد نے سفارتی کامیابیوں کو ممکن بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کریڈیبلٹی عالمی سطح پر بہتر ہوئی ہے جبکہ بھارت کی سفارتکاری ناکام ہو چکی ہے۔
اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ کشیدگی کے دوران پاکستان کا مؤقف تھا کہ اگر بھارت پہل کرے گا تو پاکستان جواب دے گا، اور تمام ممالک کو اس بات کی سمجھ بھی آگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں نیوکلیئر ممالک ہیں، اس لیے تحمل ضروری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار نے پاکستان کی کہ پاکستان کی جانب سے بھارت کی
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :