کہتے ہیں 9 مئی پر معافی مانگیں، آج میری 2 بہنوں کو جیل کے اندر جانے دیا گیا اور مجھے باہر بٹھایا گیا، سمبڑیال میں کھل کر دھاندلی ہوئی ہے، انصاف کے ادارے کنٹرول کرلیے گئے ہیں
لندن پلان کے تحت 9 مئی ہوا، 26ویں ترمیم ہوئی، 10 ہزار پی ٹی آئی ورکرز کو جیلوں میں ڈالا گیا،چیف الیکشن کمشنر غیر آئینی طریقے سے ابھی تک بیٹھا ہوا ہے، علیمہ خان کی میڈیا سے گفتگو

بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے بتایا ہے کہ عمران خان نے کہا کہ مجھے 9 مئی پر معافی مانگنے کو کہا جاتا ہے اور جب دباؤ بڑھتا ہے تو پھر یہ میرے پاس ٹیمیں بھیجتے ہیں۔اڈیالہ جیل کے باہر دونوں بہنوں کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے بتایا کہ آج میری 2 بہنوں کو جیل کے اندر جانے دیا گیا اور مجھے باہر بٹھایا گیا۔ بانی نے کہا ہے کہ ہمارے سارے دروازے بند کیے گئے ہیں۔علیمہ خان کے مطابق عمران خان نے کہا کہ سمبڑیال میں کھل کر دھاندلی ہوئی ہے۔ انصاف کے ادارے کنٹرول کرلیے گئے ہیں۔ لندن پلان کے تحت 9 مئی ہوا، 26ویں ترمیم ہوئی اور الیکشن میں دھاندلی کی گئی۔ 10 ہزار پی ٹی آئی ورکرز کو جیلوں میں ڈالا گیا۔انہوں نے بتایا کہ بانی نے کہا کہ 8 فروری کی شام کو انقلاب آیا، 9 فروری کو 17 سیٹوں والوں کو حکومت پکڑا دی گئی۔ قاضی فائز عیسیٰ کے جاتے وقت 26ویں آئینی ترمیم کا منصوبہ بنا۔ چیف الیکشن کمشنر غیر آئینی طریقے سے ابھی تک بیٹھا ہوا ہے۔علیمہ خان نے بتایا کہ عمران خان نے کہا ہے وہ جیل سے احتجاجی تحریک کو لیڈ کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ حقیقی جمہوریت کے لیے ظلم کے نظام کے خلاف کھڑا ہونا پڑے گا۔ اب سب کو نکلنا پڑے گا۔عمران خان نے کہا کہ یہ صرف کہتے ہیں 9 مئی پر معافی مانگیں۔ جب دباؤ بڑھتا ہے تو یہ میرے پاس ٹیمیں بھیجتے ہیں۔ میں نے کہا کہ 9مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیجز سامنے لائی جائیں۔ علیمہ خان نے کہا کہ بانی کو بلاواسطہ کہا جارہا ہے کہ آپ سی سی ٹی وی فوٹیجز کی بات نہ کریں۔انہوں نے بتایا کہ تنویر احمد ہمارے ڈونر ہیں، پرانا جانتے ہیں۔ جس وقت تنویر احمد کی ملاقات کرائی گئی، میں اور میری بہنیں جیل میں تھیں۔ تنویر احمد کے رابطے اسٹیبلشمنٹ سے تھے ، انہوں نے ہی ملاقات کرائی۔ تنویر احمد کے ذریعے بانی کو بتایا گیا تھا کہ 9 مئی پر معافی مانگیں۔عظمیٰ خان نے اس موقع پر بتایا کہ تنویر احمد ایک دفعہ ملے ہیں، دوسری دفعہ بھی آئے لیکن بانی نے منع کیا تھا۔ تنویر احمد دوسری دفعہ ریکویسٹ کرکے ملے تھے لیکن بانی نہیں ملنا چاہتے تھے۔علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان کا کہنا ہے میں بطور پیٹرن ان چیف لیڈ کروں گا۔

 

پاکستان تحریک انصاف کے چیٔرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان کو پی ٹی آئی میں پیٹرن انچیف بنا دیا گیا ہے۔پارٹی کے بانی نے واضح کر دیا ہے کہ ان کے لیے تمام سیاسی اور قانونی دروازے بند کر دیے گئے ہیں، لہذا اب احتجاجی تحریک کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں بچا۔اڈیالہ جیل میں بانی چیٔرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ بانی سے توشہ خانہ ٹو کیس کے موقع پر ملاقات ہوئی ہے، پارٹی کے بانی نے کہا ہے کہ وہ ملک بھر میں احتجاجی تحریک کی قیادت خود کریں گے اور اس سلسلے میں تمام ہدایات عمر ایوب کو دی جائیں گی۔بیرسٹر گوہر کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے فی الحال احتجاج کے آغاز کا کوئی ٹائم فریم نہیں دیا، تاہم واضح کیا کہ وہ آئندہ سے پارٹی کے پیٹرن ان چیف ہوں گے اور پارٹی کے تمام فیصلے وہی کریں گے۔چیٔرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ احتجاجی تحریک کی قیادت علی امین گنڈاپور کو نہیں سونپی جا رہی جبکہ سمبڑیال کے ضمنی انتخاب میں مبینہ دھاندلی کی شدید الفاظ میں مذمت بھی کی۔انہوں نے واضح کیا کہ وہ بطور چیٔرمین اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے لیکن فیصلہ سازی کا اختیار بانی پی ٹی آئی کے پاس ہو گا،بیرسٹر گوہر نے کہاکہ وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور صوبے میں گورننس کے معاملات پر فوکس کریں گے۔انہوں نے کہاکہ حکومت مخالف احتجاج کے دوران مجھے بطور چیٔرمین ڈپلومیٹک رابطوں کی ذمہ داری دی گئی ہے، ہائیکورٹ میں پارٹی کے کیسز کو لے کر آگے چلوں گا۔انہوں نے بتایا کہ مجھے چیٔرمین شپ سے ہٹانے کی باتیں افواہیں پھیلانے والے لوگ کررہے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی پیٹرن انچیف ہیں، میں پارٹی کا چیٔرمین رہوں گا۔ پارٹی کا چیٔرمین نہ ہونے کی صورت میں سب کو پتا ہے نتائج کیا ہوں گے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ میری ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ مسائل بات چیت سے حل ہوں۔ میں اب بھی چاہتا ہوں کہ مسائل بات چیت کے ذریعے ہی حل ہوں۔ بانی نے کہا ہے کہ ہمارے لیے کوئی راستہ نہیں چھوڑا گیا۔۔ بانی پی ٹی آئی نے ہمیشہ لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان 2 سال سے جیل میں ہیں، انہوں نے ہمیشہ بات چیت کو ترجیح دی۔ ہم نے مشکل حالات میں حکومت کا ساتھ دیا۔ ہم کسی صورت پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کریں گے۔ ہم پرامن احتجاج کریں گے، جو کہ ہمارا حق ہے۔انہوں نے کہا کہ بانی کے کیسز لگتے نہیں، لگتے ہیں تو شنوائی نہیں ہوتی۔ مخصوص نشستوں پر عدالتیں فیصلہ نہیں کررہیں۔ ہم چاہتے ہیں کامن سینس پرویل ہونی چاہیے۔ ہماری کسی سے کوئی بات نہیں ہورہی، لیکن بانی نے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا آپشن کھلا رکھا ہے،واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے عید کے بعد حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک کا اعلان کردیا ہے، جس کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: عمران خان نے کہا بانی پی ٹی ا ئی بیرسٹر گوہر نے احتجاجی تحریک خان نے کہا کہ علیمہ خان نے کہ عمران خان مئی پر معافی نے کہا ہے کہ بانی نے کہا نے بتایا کہ تنویر احمد پیٹرن ان انہوں نے چی رمین گئے ہیں کہ بانی کریں گے کو جیل

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ