سول اسپتال کراچی میں پولیس کا چھاپہ، زخمی حالت میں 2 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 7th, June 2025 GMT
ملزمان سول اسپتال میں علاج کیلئے پہنچے، جہاں انہوں نے عملے کو بتایا کہ انہیں بلدیہ میں ڈکیتی مزاحمت کے دوران گولیاں لگیں۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد کے علاقے سائٹ ایریا میں پولیس مقابلے کے بعد فرار ہونے والے 2 زخمی ملزمان کو کیماڑی پولیس نے سول اسپتال کراچی سے گرفتار کر لیا۔ ایس ایس پی کیماڑی فیضان علی کے مطابق دونوں ملزمان سائٹ ایریا میں شہریوں سے لوٹ مار کر رہے تھے، جس پر پولیس موقع پر پہنچی اور مقابلہ ہوا۔ ملزمان کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا، جبکہ جوابی فائرنگ میں دونوں ملزمان زخمی حالت میں فرار ہو گئے۔ ملزمان سول اسپتال میں علاج کیلئے پہنچے، جہاں انہوں نے عملے کو بتایا کہ انہیں بلدیہ میں ڈکیتی مزاحمت کے دوران گولیاں لگیں، تاہم پولیس اہلکاروں نے انہیں شناخت کر لیا اور اسپتال میں چھاپہ مار کر گرفتار کر لیا۔ ایس ایس پی کے مطابق گرفتار ملزمان پولیس کی فائرنگ سے زخمی ہوئے تھے اور فرار کے بعد سول اسپتال میں جھوٹا بیان دے کر داخل ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسپتال میں سول اسپتال
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔