وفاقی حکومت نے پانچ سالہ ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات جاری کر دیں جس کا تخمینہ 17 کھرب روپے لگایا گیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق 17 کھرب روپے کا ترقیاتی منصوبہ “اُڑان پاکستان” کے تحت پیش کیا گیا۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ منصوبے کا مقصد پاکستان کو اقتصادی طور پر خود کفیل بنانا ہے، پانچ سالہ منصوبے میں وفاق کا حصہ 7 کھرب جبکہ صوبوں کا 10 کھرب ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ 2047 تک پاکستان کو 3 کھرب ڈالر کی معیشت بنانے کا ہدف ہے جس کے پیش نظر مالی سال 2025–2026 کے لیے ترقیاتی بجٹ 4.

2 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے۔

حکومت نے پی ایس ڈی پی کے تحت ایک کھرب روپے کی وفاقی فنڈنگ مختص کی جبکہ دیامر بھاشا ڈیم کے لیے 33 ارب اور مہمند ڈیم کے لیے 35 ارب ، کوئٹہ، کراچی ہائی وے کے لیے 100 ارب اور انڈس ہائی وے کے لیے 25 ارب مختص کیے ہیں۔

اس کے علاوہ حکومت نے سکھر- حیدرآباد موٹروے کے لیے 15 ارب روپے، کراچی کے کے-فور منصوبے کے لیے 10 ارب روپے مختص کیے ہیں۔

تعلیم کے شعبے میں دانش اسکولز کے لیے 9 ارب اور وزیر اعظم ہنر پروگرام کے لیے 4.3 ارب جبکہ صحت کے شعبے میں ہیپاٹائٹس سی کے علاج کے لیے 1 ارب اور شوگر کے لیے 80 کروڑ مختص گئے ہیں۔

حکومت نے آئندہ پانچ سالوں کیلیے وفاقی منصوبوں کی تعداد 1071 سے کم کر کے 800 کر دی ہے، جس میں کم ترجیحی اور غیر فعال پروجیکٹ شامل ہیں اور انہیں ختم کرنے سے قومی خزانے پر 2730 ارب کی بچت ہوگی۔

وفاقی ترقیاتی پورٹ فولیو اب 12.8 کھرب روپے تک محدود کر دیا گیا۔ حکومت نے نینو ٹیکنالوجی، کوانٹم کمپیوٹنگ اور نئی صنعتوں کے لیے نیشنل سینٹرز قائم کیے جبکہ پاکستان میں “کوانٹم ویلی” کے قیام کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مئی 2025 میں مہنگائی 11.8 فیصد سے کم ہو کر 3.5 فیصد پر آگئی جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 1.9 ارب ڈالر تک پہنچ گیا اور ترسیلات زر میں 31 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد مجموعی حجم 31.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

رپورٹ کے مطابق مالی خسارہ 3.7 فیصد سے کم ہو کر 2.6 فیصد ہو گیا جبکہ غیر ضروری منصوبہ جات ختم کر کے صرف اپریل میں 5.4 ارب کی بچت ہوئی۔ صرف مئی 2025 میں 27 منصوبے منظور یا تجویز کیے گئے۔

وفاقی وزیر کے مطابق پی ایس ڈی پی کے 240 میں سے 210 منصوبے مکمل طور پر جانچے گئے، ترقیاتی شراکت داری پر ایشیائی ترقیاتی بینک، اے آئی آئی بی اور عالمی بینک سے مشاورت کی گئی۔

احسن اقبال نے بتایا کہ ضم شدہ اضلاع کے لیے 23 ارب روپے جاری کر دیے گئے ہیں، اُڑان پاکستان” صرف بجٹ نہیں بلکہ آئندہ نسلوں سے وعدہ ہے۔

Tagsپاکستان

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھرب روپے حکومت نے کے مطابق ارب اور کے لیے

پڑھیں:

سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری

کراچی: سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے ریلیف دینے کے لیے سفری الاؤنس اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس فیصلے کی منظوری دی گئی، جبکہ نئی شرحوں کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔

صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف پیکیج، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، گورننس اور غذائی تحفظ سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری بھی دی۔

بی پی ایس 1 سے 16 تک ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس

کابینہ نے بی پی ایس 1 سے 16 تک کے ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس 2026 کی منظوری دی ہے۔ یہ الاؤنس منجمد بنیادی پے اسکیل 2022، جو 30 جون 2026 تک نافذ تھا، پر 2 فیصد کی شرح سے ادا کیا جائے گا۔

حکومت کے مطابق اس الاؤنس کا مقصد وہ فرق ختم کرنا ہے جو 2025 میں سندھ حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کے مقابلے میں زیادہ تنخواہوں میں اضافے کے باعث پیدا ہوا تھا۔

سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ

سندھ کابینہ نے تمام صوبائی سرکاری ملازمین کے سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافے کی بھی منظوری دی ہے۔ نئی شرحیں درج ذیل ہوں گی:

گریڈ پرانا الاؤنس نیا الاؤنس
بی پی ایس 1 تا 4 1,785 روپے 2,678 روپے
بی پی ایس 5 تا 10 1,932 روپے 2,898 روپے
بی پی ایس 11 تا 15 2,856 روپے 4,284 روپے
بی پی ایس 16 اور اس سے اوپر 5,000 روپے 7,500 روپے

معذور ملازمین کے لیے خصوصی سہولت
کابینہ نے معذور سرکاری ملازمین کے لیے خصوصی سفری الاؤنس میں بھی اضافہ کرتے ہوئے اسے 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ رقم معمول کے سفری الاؤنس کے علاوہ ادا کی جائے گی۔

اطلاق کب سے ہوگا؟
حکومت سندھ کے مطابق سفری اور تفریقی الاؤنس سے متعلق تمام منظور شدہ فیصلوں پر یکم جولائی 2026 سے عمل درآمد ہوگا اور یہ موجودہ قواعد و ضوابط کے تحت نافذ رہیں گے۔

دوسری جانب صوبائی کابینہ نے ایگزیکٹو الاؤنس دینے کی تجویز منظور نہیں کی۔ وزیر اطلاعات نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس تجویز پر فی الحال اتفاق نہیں ہو سکا۔

سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بڑھتی مہنگائی کے تناظر میں سرکاری ملازمین کو مالی ریلیف فراہم کرنا اور ان کے سفری اخراجات میں کمی لانا ہے، جبکہ آئندہ بھی ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں