عید کی چھٹیوں کے اختتام پر ٹریول ایڈوائزری جاری کر دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT
نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس نے عید کی چھٹیوں کے اختتام پر ٹریول ایڈوائزری جاری کر دی۔
ترجمان نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر وے پولیس کی طرف سے عیدالاضحیٰ کی چھٹیوں کے اختتام پر صارفین کے لئے ایڈوائزری جاری کی ہے کیونکہ عید کی چھٹیوں کے اختتام پر موٹر ویز اور ہائی ویز پر ممکنہ طور پر ٹریفک کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ چند احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے اپنا سفر محفوظ اور آرامدہ بنائیں ۔سفر شروع کرنے سے پہلے گاڑی کا انجن آئل، پانی، ٹائر پریشر اور بریک چیک کر لیں ۔ دوران ڈرائیونگ سیٹ بیلٹ کا استعمال کریں حد رفتار کی پابندی کریں، اگلی گاڑی سے محفوظ فاصلہ اور لین اور لائن کا خیال رکھیں۔
لمبے سفر سے پہلے ڈرائیور مکمل فریش ہونا اور دو سے اڑھائی گھنٹے کی ڈرائیونگ کے بعد کچھ وقت آرام کرنا ضروری ہے ۔ نیند یا غنودگی کی حالت میں ہرگز ڈرائیو نہ کریں۔
مسافر بردار گاڑیوں میں سفر کرنے والے اوورلوڈنگ اور اوور چارجنگ کی شکایت موٹروے پولیس ہیلپ لائن 130پر کر سکتے ہیں۔کسی بھی مدد کی صورت میں موٹروے پولیس ہیلپ لائن 130 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے ۔ نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر وے پولیس اپ کی مدد اور محفوظ سفر کے لیے ہر دم تیار ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ہائی ویز
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔