غزہ میں امدادی مراکز کے قریب اسرائیلی فائرنگ سے 10 فلسطینی شہید، 30 سے زائد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
غزہ میں انسانی بحران ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ پیر کے روز غزہ شہر میں امداد حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے مظلوم فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے کم از کم 10 افراد شہید اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے۔
غزہ کی سول ڈیفنس فورس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سینکڑوں شہری خوراک اور امداد کے لیے دو مختلف تقسیم مراکز کی طرف جا رہے تھے۔
اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے مشتبہ افراد کو دیکھ کر 'وارننگ فائر' کیا، تاہم عینی شاہدین نے انکشاف کیا کہ فوج نے براہ راست شہریوں پر فائرنگ کی۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو خود اعتراف کر چکے ہیں کہ اسرائیل، غزہ میں حماس مخالف مقامی گروپوں کو سپورٹ اور ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے جنوبی غزہ میں ایک قبائلی گروپ کو ہتھیاروں کی اجازت دی تھی، جسے بعض مبصرین ملیشیا یا جرائم پیشہ نیٹ ورک بھی قرار دیتے ہیں۔ ان گروپوں کا دعویٰ ہے کہ وہ حماس کے خلاف عوام کا دفاع کر رہے ہیں، لیکن عالمی ادارے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ان کی کارروائیوں کو تباہ کن اور مشکوک قرار دے رہی ہیں۔
غزہ میں سرگرم انسانی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مئی کے آخر سے لے کر اب تک درجنوں فلسطینی امداد لینے کے دوران ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان واقعات میں زیادہ تر فائرنگ امدادی مراکز کے آس پاس ہوئی ہے، جو کہ اسرائیل، امریکہ اور اقوام متحدہ کے تعاون سے کام کرنے والے ادارے غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن (GHF) کے تحت قائم کیے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ غزہ کو مہینوں سے سخت ترین ناکہ بندی کا سامنا ہے، جس کے بعد حالیہ دنوں میں محدود مقدار میں خوراک اور ادویات کی ترسیل دوبارہ شروع ہوئی تھی، لیکن ان مراکز پر اب بھی تشدد، خوف اور موت کا سایہ چھایا ہوا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
گلشن اقبال میں تیز رفتار ڈمپر الٹ گیا، شہری معجزانہ طور پر محفوظ، مشتعل افراد کا کلینر پر تشدد
کراچی:شہر قائد کے علاقے گلشن اقبال میں رب میڈیکل کے قریب منگل کی شب ایک تیز رفتار ڈمپر بے قابو ہو کر سڑک پر الٹ گیا تاہم خوش قسمتی سے قریب سے گزرنے والے شہری اور دیگر گاڑیاں بڑے حادثے سے محفوظ رہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق ڈمپر اچانک توازن کھو بیٹھا اور سڑک پر الٹ گیا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
حادثے کے فوراً بعد ڈمپر کا ڈرائیور اور ایک اور شخص موقع سے فرار ہوگئے۔ واقعے کے بعد مشتعل شہریوں نے ڈمپر کے کلینر کو پکڑ لیا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔
صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہوگئی جب بعض افراد نے ڈمپر کو آگ لگانے کی کوشش کی تاہم اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور بروقت مداخلت کرتے ہوئے گاڑی کو جلائے جانے سے بچا لیا۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ حادثہ سڑک پر موجود گہرے گڑھوں اور جاری کھدائی کے باعث پیش آیا جس کے نتیجے میں ڈمپر کا توازن بگڑ گیا اور وہ الٹ گیا۔