غزہ میں انسانی بحران ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ پیر کے روز غزہ شہر میں امداد حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے مظلوم فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے کم از کم 10 افراد شہید اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے۔

غزہ کی سول ڈیفنس فورس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سینکڑوں شہری خوراک اور امداد کے لیے دو مختلف تقسیم مراکز کی طرف جا رہے تھے۔

اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے مشتبہ افراد کو دیکھ کر 'وارننگ فائر' کیا، تاہم عینی شاہدین نے انکشاف کیا کہ فوج نے براہ راست شہریوں پر فائرنگ کی۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو خود اعتراف کر چکے ہیں کہ اسرائیل، غزہ میں حماس مخالف مقامی گروپوں کو سپورٹ اور ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے جنوبی غزہ میں ایک قبائلی گروپ کو ہتھیاروں کی اجازت دی تھی، جسے بعض مبصرین ملیشیا یا جرائم پیشہ نیٹ ورک بھی قرار دیتے ہیں۔ ان گروپوں کا دعویٰ ہے کہ وہ حماس کے خلاف عوام کا دفاع کر رہے ہیں، لیکن عالمی ادارے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ان کی کارروائیوں کو تباہ کن اور مشکوک قرار دے رہی ہیں۔

غزہ میں سرگرم انسانی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مئی کے آخر سے لے کر اب تک درجنوں فلسطینی امداد لینے کے دوران ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان واقعات میں زیادہ تر فائرنگ امدادی مراکز کے آس پاس ہوئی ہے، جو کہ اسرائیل، امریکہ اور اقوام متحدہ کے تعاون سے کام کرنے والے ادارے غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن (GHF) کے تحت قائم کیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ غزہ کو مہینوں سے سخت ترین ناکہ بندی کا سامنا ہے، جس کے بعد حالیہ دنوں میں محدود مقدار میں خوراک اور ادویات کی ترسیل دوبارہ شروع ہوئی تھی، لیکن ان مراکز پر اب بھی تشدد، خوف اور موت کا سایہ چھایا ہوا ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام

واشنگٹن:

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

https://t.co/Wtbk84dEsc

— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026

سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: ملیر 15 میں رینجرز اور ایس آئی یو کی کارروائی، 3 بھتہ خور ہلاک
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • مبینہ مقابلے‘ 45 سے زائد مقدمات کا ملزم گوجرانوالہ‘ 2 ڈ اکو پیر محل میں ہلاک 
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم