غزہ کیلئے سویڈن کی امدادی کشتی انسانیت کا روشن استعارہ ہے، علامہ مقصود ڈومکی
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
اپنے بیان میں علامہ مقصود علی ڈومکی نے اسرائیلی نیول فورسز کیجانب سے پرامن امدادی کاروان کو روکنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام عالمی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ فلسطین پر اسرائیلی مظالم کے خلاف عالمی ضمیر بیدار ہو چکا ہے، سویڈن کی امدادی کشتی انسانیت کا روشن استعارہ ہے۔ امدادی کشتی کو روکنے کا اسرائیلی اقدام عالمی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اقوام متحدہ، عالمی عدالت انصاف اور دیگر بین الاقوامی ادارے اسرائیلی وزیر اعظم اور اس کی دہشت گرد کابینہ کے خلاف فوری قانونی کارروائی کریں۔ اپنے ایک جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطین کے مظلوم عوام پر جاری ظلم و بربریت نے پوری دنیا کے انسانوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اب تک 54 ہزار سے زائد بے گناہ فلسطینی شہید کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ کی قیادت میں یورپی شہریوں نے جس امدادی کشتی کے ذریعے غزہ کے محصورین تک انسانی امداد پہنچانے کی کوشش کی، وہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ دنیا اب دو واضح کیمپوں میں تقسیم ہو چکی ہے، ایک طرف مظلوم اور ان کے حامی، دوسری طرف ظالم اور ان کے پشت پناہ ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے اسرائیلی نیول فورسز کی جانب سے پرامن امدادی کاروان کو روکنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام عالمی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ، عالمی عدالت انصاف اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم اور اس کی دہشت گرد کابینہ کے خلاف فوری قانونی کارروائی کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور اسرائیل آج کی دنیا کے فرعون و یزید بن چکے ہیں، اور پوری دنیا کے باضمیر افراد ان کے ظلم و استبداد کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔ سویڈن سمیت دنیا بھر کی حکومتوں کو چاہئے کہ اسرائیلی بربریت کی کھل کر مذمت کریں اور امدادی کاروان کے تمام اراکین کی فوری رہائی کا مطالبہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ خود غزہ کو "قحط زدہ علاقہ" قرار دے چکی ہے، اس کے باوجود انسانی امداد کو روکنا نہ صرف غیر انسانی فعل ہے بلکہ بین الاقوامی اصولوں کی تضحیک بھی ہے۔ انہوں نے آخر میں کہا کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان مظلومین فلسطین کی غیر مشروط حمایت کو اپنا دینی، اخلاقی اور انسانی فریضہ سمجھتی ہے، اور دنیا بھر کے باضمیر انسانوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ مظلوموں کے حق میں اور ظالموں کے خلاف متحد ہو کر عملی کردار ادا کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امدادی کشتی علامہ مقصود انہوں نے کے خلاف نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔