والد نے مسلسل رابطوں سے پریشان ہوکر تدفین کا بیان دیا، بہن بہت خوددار تھی، بھائی حمیرا اصغر
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 6 کے فلیٹ میں ناقابل شناخت حالت میں مردہ پائی گئی اداکارہ کے بھائی کو میت حوالے کردی گئی ہے۔
اداکارہ حمیرا اصغر کے بھائی نوید اصغر شام کو لاہور سے کراچی پہنچے جس کے بعد انہوں نے پولیس سے رابطہ کر کے قانونی کارروائی مکمل کی اور پھر چھیپا فاؤنڈیشن نے میت حوالے کردی۔
رمضان چھیپا کے ہمراہ میڈیا یسے گفتگو کرتے ہوئے نوید اصغر نے کہا کہ میری بہن خودار تھی، اللہ اس کی مغفرت فرمائے اور آگے کی منازل کو آسان فرمائے۔
انہوں نے کہا کہ یہ غلط خبر ہے کہ ہم نے بہن سے لاتعلقی کی، ہم گزشتہ تین روز سے پولیس اور چھیپا سے مسلسل رابطے میں تھے اور میت وصول کرنے آنا تھا، چونکہ قانونی کارروائی میں دیر لگتی ہے اس لیے اب میت وصول کرنے آئے ہیں۔
نوید اصغر نے کہا کہ حال ہی میں میری چھوٹی پھپھو کا ٹریفک حادثے میں انتقال ہوا جس کی وجہ سے والد اور والدہ پریشان تھے، اس دوران حمیرا کے انتقال کی خبر آئی اور پھر مسلسل کالز کا سلسلہ شروع ہوا جس پر انہوں نے تدفین سے متعلق بیان دیا تھا کیونکہ وہ بہت زیادہ پریشان تھے۔
نوید اصغر نے کہا کہ میری بہن خودمختار تھی اور وہ اپنی مرضی سے شوبز میں آئی البتہ والدین کا پوچھ گچھ کرنا ایک فطری عمل ہے کیونکہ اولاد پر نظر رکھنا اُن کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بہن سے تقریباً ایک سال سے رابطہ نہیں تھا، آخری بار والدہ نے بات کی تو رہائش کا بھی پوچھا تھا مگر حمیرا نے کچھ نہیں بتایا تھا پھر چھ ماہ سے تو والدہ کی بھی کوئی بات نہیں ہوئی تھی، اُس کا فون بند تھا اور ہم نے کئی بار معلومات لینے کی کوشش کی تو ناکام ہوگئے، والدہ کو بھی رہائش کے علاقے تک کا علم نہیں تھا۔
نوید اصغر نے کہا کہ میڈیا کو میری فیملی ڈسکس کرنے کے بجائے مالک مکان سے سوالات کرنے چاہیے، دروازہ کیسے کھلا؟ مالک مکان نے اتنے عرصے رابطہ کیوں نہیں کیا، ہم اس کیس کی شفاف تحقیقات چاہتے ہیں اور میڈیکل رپورٹس کے بعد ویسے بھی حقائق کو سامنے آنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا میں ہمارے خاندان سے متعلق بحث اور خبروں کی وجہ سے والدہ شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں، ہم سوال کرتے ہیں کہ کیا کوئی تالا توڑ کر گھر میں داخل ہوا؟ جہاں حمیرا رہائش پذیر تھی وہاں کیمرے کیوں نہیں کیونکہ اگر سی سی ٹی وی ہوتے تو پھر حقائق سامنے آجاتے۔
اداکارہ کے بھائی نے کہا کہ میت وصول کرنے کے بعد ہم تدفین کے حوالے سے والد سے مشورہ کر کے پروگرام طے کریں گے۔
دوسری جانب رمضان چھیپا نے کہا کہ حمیرا کے حوالے سے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا اور والدین سے متعلق غلط خبریں پھیلائی گئیں، سب بیٹیوں کے حوالے سے پروپیگنڈا ختم ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مرحومہ میری بیٹیوں جیسی تھی اگر میت لاہور جائے گی تو تمام اخراجات فاؤنڈیشن برداشت رکے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نوید اصغر نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔