کراچی:

انگلینڈ کے اسٹار بلے باز جو روٹ نے بھارت کے خلاف اولڈ ٹریفورڈ میں جاری چوتھے ٹیسٹ میچ میں کئی ریکارڈز اپنے نام کرلیے۔

جو روٹ نے 150 رنز کی اننگز کھیلتے ہوئے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے بازوں کی فہرست میں آسٹریلیا کے رکی پونٹنگ کو پیچھے چھوڑ دیا اور دوسرے نمبر پر آ گئے۔

اب جو روٹ کے ٹیسٹ رنز کی تعداد 13,409 ہو چکی ہے جبکہ اس فہرست میں سرفہرست بھارت کے عظیم بلے باز سچن ٹنڈولکر ہیں جن کے رنز کی تعداد 15,921 ہے۔

34 سالہ روٹ 39 ویں اوور میں اس وقت کریز پر آئے جب انگلینڈ کا اسکور 197 رنز پر 2 وکٹوں کے نقصان پر تھا۔ اوپنرز کے شاندار آغاز کے بعد انہوں نے اننگز کو سنبھالا، دوسرے دن کا کھیل ختم کیا اور تیسرے دن اپنی شاندار کارکردگی جاری رکھتے ہوئے انگلینڈ کو مستحکم پوزیشن میں پہنچا دیا۔

اپنی اننگز کے دوران روٹ نے تیزی سے کئی عظیم بلے بازوں کو پیچھے چھوڑا۔ 57ویں اور 58ویں اوور میں انہوں نے راہول ڈریوڈ (13,288) اور جیک کیلس (13,289) کو پیچھے چھوڑا، جب کہ 101ویں اوور میں وہ رکی پونٹنگ (13,378) سے آگے نکل گئے۔

ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی:

کھلاڑی — ملک — رنز
سچن ٹنڈولکر — بھارت — 15,921
جو روٹ — انگلینڈ — 13,409
رکی پونٹنگ — آسٹریلیا — 13,378
جیکک کیلس — ساؤتھ افریقہ — 13,289
راہول ڈریوڈ — بھارت — 13,288

یہ اس سیریز میں روٹ کی دوسری سنچری تھی جبکہ ان کے ٹیسٹ کیریئر کی 38ویں سنچری ہے، یوں وہ کمار سنگاکارا کے برابر آ گئے ہیں۔ سنچریوں کے اعتبار سے اب صرف پونٹنگ (41)، کیلس (45) اور ٹنڈولکر (51) ان سے آگے ہیں۔

مزید برآں روٹ نے بھارت کے خلاف سنچری کے ساتھ ہی جو روٹ نے اپنے ملک کے میدانوں پر ایک ہی حریف ٹیم کے خلاف سب سے زیادہ سنچریاں بنانے کا ڈان بریڈ مین کا ریکارڈ توڑا۔

روٹ کی اپنے ہوم گراؤنڈ پر بھارت کے خلاف یہ نویں سنچری تھی۔ اس سے قبل آسٹریلیا کے سر ڈان بریڈمین نے  اپنے میدانوں پر انگلینڈ کے خلاف 8 سنچریاں بنائی تھیں۔

علاوہ ازیں جو روٹ بھارت کے خلاف سب سے زیادہ ٹیسٹ سنچریاں (12)سکور کرنے والے بیٹر بھی بن گئے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بھارت کے خلاف سب سے زیادہ جو روٹ نے

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ