تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کا سرحدی تنازع شدت اختیار کر گیا، ایک دوسرے پر فضائی حملے اور راکٹ باری
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان ’ایمرلڈ ٹرائی اینگل‘ کے علاقے پر جاری پرانا سرحدی تنازع دوبارہ شدت اختیار کر گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان شدید سرحدی جھڑپیں، متعدد ہلاک، تھائی سرحدی اضلاع میں مارشل لا
کمبوڈیا کی جانب سے راکٹ اور گولہ باری کے نتیجے میں کم از کم 11 تھائی شہری ہلاک ہو گئے، جس کے جواب میں تھائی فضائیہ نے کمبوڈین اہداف پر فضائی حملے کیے۔
جھڑپیں 2 سرحدی مندروں کے قریب ہوئیں جہاں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر الزام لگایا۔
تھائی لینڈ نے کمبوڈیا کو ’ظالم اور جنگ پسند‘ قرار دیا، جبکہ کمبوڈیا نے اقوام متحدہ سے فوری اجلاس کی درخواست کی۔
یہ بھی پڑھیں:تھائی لینڈ-کمبوڈیا سرحدی جھڑپیں: 10 سے زائد افراد ہلاک
تنازع نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کشیدہ کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں سفرا واپس بلائے گئے ہیں، جب کہ تھائی لینڈ نے شہریوں کو کمبوڈیا چھوڑنے کی ہدایت کی۔
کمبوڈیا نے تناؤ کے پیش نظر اگلے سال لازمی فوجی بھرتی کا اعلان بھی کر دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تھائی لینڈ سرحدی تنازع کمبوڈیا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تھائی لینڈ کمبوڈیا تھائی لینڈ
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔