Islam Times:
2026-07-24@05:01:07 GMT

خیبر پختونخوا کا 2000 ارب کا بجٹ تیار، کوئی نیا ٹیکس نہیں

اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT

خیبر پختونخوا کا 2000 ارب کا بجٹ تیار، کوئی نیا ٹیکس نہیں

صوبائی حکومت نے بجٹ میں ترقیاتی اخراجات کے لیے 433 ارب روپے مختص کیے ہیں جن میں ضم شدہ اضلاع کے ترقیاتی منصوبے بھی شامل ہیں  جب کہ جاری اخراجات کا تخمینہ 1800 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا حکومت نے آئندہ مالی سال 2025-26 کے لیے 2000 ارب روپے سے زائد کا سالانہ بجٹ تیار کر لیا ہے، جو کل صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ صوبائی حکومت نے بجٹ میں ترقیاتی اخراجات کے لیے 433 ارب روپے مختص کیے ہیں جن میں ضم شدہ اضلاع کے ترقیاتی منصوبے بھی شامل ہیں  جب کہ جاری اخراجات کا تخمینہ 1800 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ بجٹ کو 180 ارب روپے فاضل رکھا گیا ہے اور حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ اس میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا البتہ موجودہ ٹیکس شرح میں رد و بدل کا امکان ہے۔ صوبائی حکومت نے آئندہ بجٹ میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسکولوں کے لیے فرنیچر کی خریداری، 200 پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اسکولز کا قیام، 10 تاریخی اسکولز کے تحفظ اور ابتدائی و ثانوی تعلیم کے لیے 13 ارب روپے جبکہ محکمہ اعلیٰ تعلیم کے لیے ساڑھے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز شامل ہے۔ علاوہ ازیں 30 نئے ڈگری کالجز کرایہ کی عمارتوں میں قائم کیے جائیں گے۔

ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دیتے ہوئے حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اگلے مالی سال کے دوران 600 سے زائد ترقیاتی اسکیمیں مکمل کی جائیں گی، جن میں سے 80 فیصد یا اس سے زیادہ پراگریس رکھنے والے منصوبے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیے جائیں گے۔ سالانہ ترقیاتی پروگرام کا تھرو فارورڈ 13 سالوں سے کم کر کے 7 سال پر لانے کی منصوبہ بندی بھی کی گئی ہے۔ مجموعی طور پر 500 ارب روپے کی اسکیمیں بجٹ میں شامل کی گئی ہیں، جن کے لیے رواں سال 195 سے 250 ارب روپے جاری کیے جائیں گے۔ بجٹ میں پشاور، بنوں اور ڈی آئی خان میں سیف سٹی پراجیکٹ، پشاور تا ڈی آئی خان موٹروے، بجلی کی نئی ٹرانسمیشن لائن، صوبائی انشورنس کمپنی، اور سی بی آر بی جیسے بڑے منصوبے شامل ہیں۔ اسی طرح ضم اضلاع کے لیے بھی خصوصی فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ صوبے میں 4 نئے کارڈک سینٹرز قائم کیے جائیں گے، جب کہ مصری بانڈہ نوشہرہ میں سفاری پارک کے قیام کا منصوبہ بھی بجٹ کا حصہ ہے۔

غریب اور محروم طبقات کے لیے بجٹ میں خصوصی اقدامات شامل کیے گئے ہیں، جبکہ فنکاروں کے اعزازیے میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، جو ایک لاکھ سے بڑھا کر ڈیڑھ لاکھ کر دیا جائے گا۔ صوبائی حکومت آئندہ مالی سال میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف 40 فیصد اضافے کے ساتھ مقرر کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، جس سے مالیاتی استحکام کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: صوبائی حکومت کیے جائیں گے حکومت نے ارب روپے کے لیے گیا ہے

پڑھیں:

خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ

محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں  کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے  مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن