Islam Times:
2026-06-03@00:43:52 GMT

خیبر پختونخوا کا 2000 ارب کا بجٹ تیار، کوئی نیا ٹیکس نہیں

اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT

خیبر پختونخوا کا 2000 ارب کا بجٹ تیار، کوئی نیا ٹیکس نہیں

صوبائی حکومت نے بجٹ میں ترقیاتی اخراجات کے لیے 433 ارب روپے مختص کیے ہیں جن میں ضم شدہ اضلاع کے ترقیاتی منصوبے بھی شامل ہیں  جب کہ جاری اخراجات کا تخمینہ 1800 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا حکومت نے آئندہ مالی سال 2025-26 کے لیے 2000 ارب روپے سے زائد کا سالانہ بجٹ تیار کر لیا ہے، جو کل صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ صوبائی حکومت نے بجٹ میں ترقیاتی اخراجات کے لیے 433 ارب روپے مختص کیے ہیں جن میں ضم شدہ اضلاع کے ترقیاتی منصوبے بھی شامل ہیں  جب کہ جاری اخراجات کا تخمینہ 1800 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ بجٹ کو 180 ارب روپے فاضل رکھا گیا ہے اور حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ اس میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا البتہ موجودہ ٹیکس شرح میں رد و بدل کا امکان ہے۔ صوبائی حکومت نے آئندہ بجٹ میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسکولوں کے لیے فرنیچر کی خریداری، 200 پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اسکولز کا قیام، 10 تاریخی اسکولز کے تحفظ اور ابتدائی و ثانوی تعلیم کے لیے 13 ارب روپے جبکہ محکمہ اعلیٰ تعلیم کے لیے ساڑھے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز شامل ہے۔ علاوہ ازیں 30 نئے ڈگری کالجز کرایہ کی عمارتوں میں قائم کیے جائیں گے۔

ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دیتے ہوئے حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اگلے مالی سال کے دوران 600 سے زائد ترقیاتی اسکیمیں مکمل کی جائیں گی، جن میں سے 80 فیصد یا اس سے زیادہ پراگریس رکھنے والے منصوبے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیے جائیں گے۔ سالانہ ترقیاتی پروگرام کا تھرو فارورڈ 13 سالوں سے کم کر کے 7 سال پر لانے کی منصوبہ بندی بھی کی گئی ہے۔ مجموعی طور پر 500 ارب روپے کی اسکیمیں بجٹ میں شامل کی گئی ہیں، جن کے لیے رواں سال 195 سے 250 ارب روپے جاری کیے جائیں گے۔ بجٹ میں پشاور، بنوں اور ڈی آئی خان میں سیف سٹی پراجیکٹ، پشاور تا ڈی آئی خان موٹروے، بجلی کی نئی ٹرانسمیشن لائن، صوبائی انشورنس کمپنی، اور سی بی آر بی جیسے بڑے منصوبے شامل ہیں۔ اسی طرح ضم اضلاع کے لیے بھی خصوصی فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ صوبے میں 4 نئے کارڈک سینٹرز قائم کیے جائیں گے، جب کہ مصری بانڈہ نوشہرہ میں سفاری پارک کے قیام کا منصوبہ بھی بجٹ کا حصہ ہے۔

غریب اور محروم طبقات کے لیے بجٹ میں خصوصی اقدامات شامل کیے گئے ہیں، جبکہ فنکاروں کے اعزازیے میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، جو ایک لاکھ سے بڑھا کر ڈیڑھ لاکھ کر دیا جائے گا۔ صوبائی حکومت آئندہ مالی سال میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف 40 فیصد اضافے کے ساتھ مقرر کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، جس سے مالیاتی استحکام کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: صوبائی حکومت کیے جائیں گے حکومت نے ارب روپے کے لیے گیا ہے

پڑھیں:

متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔
 

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا