پانی روکا تو جنگ ہو گی، بھارت نے ٹرمپ کو موقف سے ہٹانے کی کئی مرتبہ کوشش کی: بلاول
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
لندن؍ اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) پاکستانی سفارتی مشن کے سربراہ اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے جنگ بندی کے بعد اور ہمارے دورے کے دوران بھارت نے متعدد بار ٹرمپ سے رابطہ کر کے انہیں اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹانے کی کوشش کی مگر وہ ناکام رہا ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایگمونٹ رائیل انسٹیٹیوٹ برسلز میں خطاب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا یورپ کا دورہ مکمل ہوگیا، ہم نے پارلیمان اور تھنک ٹینکس سے انگیچ کیا اور پاکستان کے امن کے پیغام کو پہنچایا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ امریکا، اقوام متحدہ میں اچھا رسپانس ملا، اقوام متحدہ میں دہشت گردی کے حوالے سے کمیٹی کی ذمہ داری پاکستان کو دی گئی ہے، یہ وزیراعظم اور ان کی ٹیم کی بڑی کامیابی ہے جبکہ بھارت کو منہ توڑ جواب ملا کیونکہ وہ پاکستان کو دہشت گرد ریاست قرار دے رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جنگ بندی اور ہمارا دورہ شروع ہونے کے بعد بھارت نے مسلسل کوشش کی کہ وہ ٹرمپ کو اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹوائیں مگر امریکی صدر نے ان کی بات نہیں سنی۔ ہم ان کے شکر گزار ہیں کہ وہ آج بھی امن کے ساتھ ہی کھڑے ہیں۔ بلاول نے کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ نے بھی گزشتہ روز اس بات کا اعادہ کیا کہ ٹرمپ مسئلہ کشمیر کو حل کروانا چاہتے ہیں، امریکی فوج کے اعلیٰ عہدیدار نے اپنی پارلیمان سے خطاب میں پاکستان کو اپنا دیرینہ ساتھی قرار دیا ہے اور واضح کیا کہ پاکستان دہشت گرد ملک نہیں بلکہ انسداد دہشت گردی میں امریکا کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ سفارتی مشن کے سربراہ نے کہا کہ ہم ابھی بھی امن اور مسئلہ کشمیر کا حل چاہتے ہیں، کشمیر کا مسئلہ تقسیم کے ساتھ شروع ہوا تھا، برطانیہ نے یہ مسئلہ ہمارے لیے چھوڑا اور آج اس کی وجہ سے دونوں ممالک جنگ کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ہم یہاں یورپی یونین میں ہیں جہاں عالمی قوانین اور ان پر عملدرآمد کے حوالے سے اقدامات ہوتے ہیں، ہمیں یہاں سے بھی بہت اچھا رسپانس ملا ہے۔ کوشش ہے کہ پاکستان کا مقدمہ عالمی سطح پر لڑیں، کشمیر اور سندھو کا معاملہ عالمی سطح پر اجاگر کریں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے اسلامو فوبیا کے نام پر ایک بیانیہ اور جھوٹی کہانیاں گھڑی جارہی ہیں اور ہم ان سازشوں کو عالمی سطح پر بے نقاب کریں گے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے انڈیا نے بہت بڑا اعلان کر دیا ہے، اس پر عملدرآمد ہو گا تو جنگ ہو گی، تو اگر انڈیا ہماری پانی کی سپلائی روکتا ہے تو اس صورت میں جنگ ہو گی۔ برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے اپنے ایک انٹریو میں ان کا کہنا تھا کہ پہلگام واقعے کے بارے میں امریکہ میں موجود انڈیا کے حامیوں نے بھی تسلیم کیا کہ انڈیا نے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے، دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے اقدامات کو امریکہ میں مانا جاتا ہے۔ پاکستان کا مؤقف سچ پر مبنی اور بہت تگڑا ہے، ہم امن کا پیغام لے کر آئے ہیں، ممکنہ جوہری تنازع کے پس منظر میں بات چیت کرنا چاہتے ہیں، ہم جس سے بھی مل رہے ہیں وہ نہ صرف ہمارے مؤقف کو سن رہا ہے بلکہ اس کو سراہ بھی رہا ہے اور مدد کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کر رہا ہے۔‘بلاول بھٹو نے کہا کہ امریکہ کے پاس اس بارے میں معلومات اور زمینی حقائق موجود ہیں کہ پاکستان دہشتگرد گروہوں سے کیسے ڈیل کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کا سارا عمل مکمل کیا، امریکہ اس عمل کا حصہ ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے امریکی صدر ٹرمپ کے بیان پر ردعمل میں کہا ہے کہ پاکستان امن چاہتا ہے، صدر ٹرمپ بھی امن چاہتے ہیں۔ بھارت میں مودی کی حکومت جنگ چاہتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو زرداری نے کہ پاکستان چاہتے ہیں نے کہا کہ رہا ہے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔