بھارت نے متعدد بار ٹرمپ سے رابطہ کر کے مؤقف سے پیچھے ہٹانے کی کوشش کی، بلاول بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
پاکستانی سفارتی مشن کے سربراہ اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے جنگ بندی کے بعد اور ہمارے دورے کے دوران بھارت نے متعدد بار ٹرمپ سے رابطہ کر کے انہیں اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹانے کی کوشش کی مگر وہ ناکام رہا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق چیرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایگمونٹ رائیل انسٹیٹیوٹ برسلز میں خطاب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا یورپ کا دورہ مکمل ہوگیا، ہم نے پارلیمان اور تھنک ٹینکس سے انگیچ کیا اور پاکستان کے امن کے پیغام کو پہنچایا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے سندھو اور کشمیر پر حملہ جبکہ دہشت گردی کے نام پر پاکستان پر حملہ کیا، اس کے جواب میں ہم سندھو اور کشمیر کا مسئلہ عالمی سطح پر اٹھا رہے ہیں اور ابھی تک ہمیں بہت اچھا رسپانس
ابھی تک بہت اچھا رسپانس ملا ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ امریکا، اقوام متحدہ میں اچھا رسپانس ملا، اقوام متحدہ میں دہشت گردی کے حوالے سے کمیٹی کی ذمہ داری پاکستان کو دی گئی ہے، یہ وزیراعظم اور اُن کی ٹیم کی بڑی کامیابی ہے جبکہ بھارت کو منہ توڑ جواب ملا کیونکہ وہ پاکستان کو دہشت گرد ریاست قرار دے رہا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ جنگ بندی اور ہمارا دورہ شروع ہونے کے بعد بھارت نے مسلسل کوشش کی کہ وہ ٹرمپ کو اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹوائیں مگر امریکی صدر نے اُن کی بات نہیں سنی، ہم اُن کے شکر گزار ہیں کہ وہ آج بھی امن کے ساتھ ہی کھڑے ہیں۔
بلاول نے کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ نے بھی گزشتہ روز اس بات کا اعادہ کیا کہ ٹرمپ مسئلہ کشمیر کو حل کروانا چاہتے ہیں، امریکی فوج کے اعلیٰ عہدیدار نے اپنی پارلیمان سے خطاب میں پاکستان کو اپنا دیرینہ ساتھی قرار دیا ہے اور واضح کیا کہ پاکستان دہشت گرد ملک نہیں بلکہ انسداد دہشت گردی میں امریکا کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔
سفارتی مشن کے سربراہ نے کہا کہ ہم ابھی بھی امن اور مسئلہ کشمیر کا حل چاہتے ہیں، کشمیر کا مسئلہ تقسیم کے ساتھ شروع ہوا تھا، برطانیہ نے یہ مسئلہ ہمارے لیے چھوڑا اور آج اس کی وجہ سے دونوں ممالک جنگ کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ہم یہاں یورپی یونین میں ہیں جہاں عالمی قوانین اور ان پر عملدرآمد کے حوالے سے اقدامات ہوتے ہیں، ہمیں یہاں سے بھی بہت اچھا رسپانس ملا ہے۔
سفارتی مشن کے سربراہ نے کہا کہ کوشش ہے کہ پاکستان کا مقدمہ عالمی سطح پر لڑیں، کشمیر اور سندھو کا معاملہ عالمی سطح پر اجاگر کریں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے اسلامو فوبیا کے نام پر ایک بیانیہ اور جھوٹی کہانیاں گڑھی جارہی ہیں اور ہم ان سازشوں کو عالمی سطح پر بے نقاب کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عالمی سطح پر اچھا رسپانس بلاول بھٹو نے کہا کہ بھارت نے
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔