اگر ٹرمپ کو پہلے سے پتہ تھا توامریکی صدرنے اسرائیل کو کیوں نہیں روکا،ملیحہ لودھی
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق سفیر ملیحہ لودھی نے ایران پر اسرائیل کے حملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ٹرمپ کو پہلے سے پتہ تھا توانہوں نے اسرائیل کو کیوں نہیں روکا۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ملیحہ لودھی نے کہاکہ یوکرین کے معاملے پر ڈونلڈٹرمپ ناکام رہے،امریکا کواس کا جواب دینا پڑے گا۔
سابق پاکستانی سفیر کاکہناتھا کہ کیا امریکا نے اسرائیل کو حملہ کرنے کیلئے گرین سگنل دیا؟اس کے سنگین نتائج ہوں گے،او آئی سی غزہ میں خونریزی کو روک نہیں سکی،سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک کی جانب سے ردعمل آیا ہے،بیانات سے اب کام نہیں چلے گا۔
چین کا ایران پر اسرائیلی حملوں پر گہری تشویش کا اظہار، فریقین سے تحمل کی اپیل
ملیحہ لودھی کاکہناتھا کہ اسرائیل ایک دہشتگرد ریاست ہے، اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑائیں،چین نے کہا ہے کہ خطے میں تناؤ کو کم کرنے کی ضرورت ہے،اسرائیل صرف امریکا کی بات سنتا ہے،ضروری ہے کہ ایران کے ساتھ یکجہتی کیلئے شانہ بشانہ کھڑے رہیں۔ان کاکہناتھا کہ میں نہیں سمجھتی کہ اس صورتحال میں روس کوئی کردار ادا کر سکتا ہے،اس صورتحال میں امریکا کے علاوہ کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ملیحہ لودھی
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔