اسرائیل اور امریکہ کا کو حملوں کی بھاری قیمت چکانا ہو گی،جوابی کارروائی کی تیار کرلی، ایران
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
تہران (اوصاف نیوز)ترجمان ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور امریکا کو حملوں کی بھاری قیمت چکانا ہو گی۔ایرانی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے نمائندے ابراہیم رضائی نے اسرائیل کو ایران کے جوابی حملے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تل ابیب کی کارروائیوں کا بھرپورجواب دیا جائےگا۔
ترجمان سربراہ ایرانی افواج کے مطابق اسرائیل کے ساتھ ساتھ امریکا کو بھی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے کہا کہ دشمن نے ایران پر حملہ کرکے سنگین غلطی کی ہے ،ایران بھرپورجواب دےگا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے یہ حملے امریکا کی مدد سے کیے، اب دشمن ایران کےجواب کا انتظار کرے۔
واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملے کیے گئے ہیں جس میں جوہری اور فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، ان حملوں میں پاسداران انقلاب کے سربراہ حسین سلامی اور جوہری سائنسدان شہید ہوگئے۔
ترجمان ایرانی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی حملے میں کئی ایرانی کمانڈر شہید ہو چکے ہیں، اسرائیل بھاری قیمت ادا کریں گے ہم سےسخت ردعمل کی توقع رکھنی چاہیے۔ بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی کی تیاری کرلی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق آرمی چیف جنرل باقری زندہ ہیں،وہ وار روم میں موجود ہیں، تہران اسرائیلی حملے کا “سخت جواب دینے کا منصوبہ بنا رہا ہے، ایران نے اپنی فضائی حدود تاحکم ثانی بند کردی۔
ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کے حملوں کو امریکا کی مدد حاصل تھی، تہران، قم ، تبریز، ارمیا، مراغہ اور اہواز کونشانہ بنایاگیا۔
ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے خونی طاقت کا استعمال کیا،اسرائیل کو سخت سزا دی جائے گی۔
جاز پر 22 ارب روپے کا جرمانہ، تاریخی عدالتی فیصلے میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف بی آر کے حق میں فیصلہ سنا دیا
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ہے کہ اسرائیل بھاری قیمت
پڑھیں:
علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔