صدر ٹرمپ نیو جرسی کے میٹ لائف اسٹیڈیم میں منعقدہ نئے وسعت یافتہ فیفا کلب ورلڈ کپ کے فائنل میں شرکت کریں گے، جہاں پیرس سینٹ جرمین کا مقابلہ چیلسی سے ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:کرسٹیانو رونالڈو نے فیفا کلب ورلڈ کپ کے بجائے آرام کو ترجیح کیوں دی؟

یہ میچ درحقیقت اگلے سال اسی اسٹیڈیم میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ فائنل کی ایک طرح کی آزمائش بھی ہے۔

ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ کلب ورلڈ کپ 2026 کے فیفا ورلڈ کپ اور 2028 کے لاس اینجلس اولمپکس کو اپنی صدارت کے سنہری دور کی علامتوں کے طور پر دیکھتے ہیں۔

فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو سے ٹرمپ کی قریبی دوستی بھی اس تقریب میں ان کی موجودگی کی ایک وجہ ہے۔

انفانٹینو نے مارچ میں وائٹ ہاؤس کے دورے کے موقع پر کلب ورلڈ کپ کی ٹرافی ٹرمپ کو دی تھی، جو اب سے ان کی میز پر سجی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے لائبیریا کے صدر کی انگریزی کی تعریف مگر لائبیرینز ناراض کیوں؟

فٹبال (ساکر) سے ٹرمپ کی دلچسپی صرف سیاسی نہیں بلکہ ذاتی بھی ہے۔ ان کے 19 سالہ بیٹے بیرن ٹرمپ فٹبال کے مداح ہیں۔

انفانٹینو نے ہفتے کو نیویارک میں ٹرمپ ٹاور میں فیفا کے نئے دفتر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اس بات کی تصدیق کی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ٹرمپ واقعی فٹبال کو پسند کرتے ہیں؟ تو انفانٹینو نے جواب دیا میرے خیال میں کرتے ہیں۔ ان کی پہلی مدت صدارت میں وائٹ ہاؤس کے باغ میں ایک فٹبال گول موجود تھا۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ ان کا بیٹا فٹبال سے محبت کرتا ہے، اور والدین کو وہی پسند ہوتا ہے جو ان کے بچوں کو پسند ہو۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں وہ بھی فٹبال کو پسند کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:رونالڈو نے فیفا کلب ورلڈ کپ کھیلنے کی پیشکش ٹھکرادی

یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ٹرمپ نے نیویارک ملٹری اکیڈمی میں طالبعلمی کے دوران ایک سیزن فٹبال بھی کھیلا تھا۔

امریکا جیسے ملک میں جہاں امریکن فٹبال، باسکٹ بال اور بیس بال کو ترجیح دی جاتی ہے، وہاں ٹرمپ کی فٹبال سے دلچسپی غیر روایتی لگتی ہے۔

تاہم ٹرمپ ہمیشہ سے شہرت، طاقت اور اثر و رسوخ کے مواقع تلاش کرتے آئے ہیں، اور فٹبال ان سب کی نمائندگی کرتا ہے۔

انہوں نے مارچ میں وائٹ ہاؤس میں انفانٹینو کے دورے کے دوران یاد دلایا کہ امریکا کو 2026 ورلڈ کپ کی میزبانی کا حق 2018 میں ان کے پہلے دورِ صدارت کے دوران ملا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کا کینیڈا پر 35 فیصد محصولات عائد کرنے کا اعلان

انہوں نے کہا کہ انہیں افسوس تھا کہ وہ اس وقت صدر نہیں ہوں گے، لیکن 2020 کے انتخابات میں شکست نے انہیں دوبارہ صدارت تک پہنچا دیا۔

فیفا کلب ورلڈ کپ، جس کے بارے میں ناقدین نے شکوک ظاہر کیے تھے، حیرت انگیز طور پر کامیاب رہا ہے۔ اب تک ملک بھر میں 25 لاکھ افراد میچز دیکھنے پہنچے ہیں اور کئی میچز نہایت سنسنی خیز ثابت ہوئے ہیں۔

انفانٹینو نے ہفتے کو صدر ٹرمپ کی حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے فیفا کلب ورلڈ کپ اور آئندہ سال ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کی اہمیت کو فوراً تسلیم کیا۔

انہوں نے مذاقاً کہا کہ ٹرمپ کو ٹرافی بھی بہت پسند آئی جو وائٹ ہاؤس کے سنہری ماحول سے خوب میل کھاتی ہے۔

اس ساری صورتحال میں ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسی نے بھی خدشات کو جنم دیا ہے کہ غیر ملکی شائقین 2026 ورلڈ کپ کے لیے امریکہ آنے سے ہچکچائیں گے۔

مئی میں نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ ورلڈ کپ کے شائقین خوش آمدید ہیں، لیکن وقت ختم ہونے پر انہیں واپس جانا ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ساکر فٹبال فیفا فیفا کلب ورلڈ کپ ورلڈ کپ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ساکر فٹبال فیفا فیفا کلب ورلڈ کپ ورلڈ کپ فیفا کلب ورلڈ کپ انفانٹینو نے یہ بھی پڑھیں ورلڈ کپ کے وائٹ ہاؤس کے دوران انہوں نے ٹرمپ کی

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی