یمن نے ایران پر اسرائیل کے جارحانہ حملے کی مذمت کر دی
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
اپنے ایک جاری بیان میں یمنی حکومت کا کہنا تھا کہ خطے میں اشتعال انگیزی کا نقصان اُسی کو ہو گا جو اس آگ کو لگائے گا۔ یقیناً، ظالم کی غنڈہ گردی، حق اور استقامت کی چٹان سے ٹکرا کر چکنا چور ہو جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ "انصار الله" کی حمایت یافتہ یمنی حکومت نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف صہیونی رژیم کی واضح جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ یمنی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اس جارحیت کا ارتکاب مغرب کی جانب سے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے نام پر اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جان بوجھ کر دباؤ بڑھانے کے بعد ہوا۔ ہمیں اس بات میں کوئی شائبہ نہیں کہ ایران ہر طرح کی جارحیت اور اپنی خود مختاری کو چیلنج کرنے والی حرکات کا بھرپور طاقت سے جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بیان کے آخر میں یمن کی حکومت نے کہا کہ ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خطے میں اشتعال انگیزی کا نقصان اُسی کو ہو گا جو اس آگ کو لگائے گا۔ یقیناً، ظالم کی غنڈہ گردی، حق اور استقامت کی چٹان سے ٹکرا کر چکنا چور ہو جائے گی۔ واضح رہے کہ غزہ کی حمایت میں غاصب صیہونی رژیم نے آج صبح اسلامی جمہوریہ ایران پر 250 کے قریب حملے کئے۔ جن میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ اس دراندازی پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ صیہونی رژیم کو ان حملوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔