سندھ حکومت کا یکم تا 14 اگست عجائب گھروں میں عوام کیلئے مفت داخلے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
کراچی میں واقع آرکائیوز گیلری، جہاں نایاب دستاویزات، مخطوطات، اور تصاویر رکھی گئی ہیں، میں بھی مفت داخلہ ہوگا، اسی طرح سمبارہ آرٹ گیلری (کراچی)، ظفر کاظمی آرٹ گیلری (حیدرآباد)، اور مہران آرٹس کونسل گیلری (حیدرآباد) میں بھی مفت رسائی دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے محکمہ ثقافت، سیاحت، نوادرات و آرکائیوز نے اعلان کیا ہے کہ یومِ آزادی کی تقریبات کے سلسلے میں یکم اگست سے 14 اگست تک میوزیمز (عجائب گھروں) میں عوامی داخلہ مفت ہوگا۔ اس سلسلے میں جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، اس سال کی تقریبات کا مرکزی موضوع ’معرکۂ حق‘ ہوگا، جو بھارت کی جارحیت کے خلاف (پاکستان کے عسکری ردِ عمل) آپریشن ’بنیان المرصوص‘ کی یادگار ہے۔ مئی 2025ء میں دونوں ممالک کے درمیان ایک مختصر مگر شدید عسکری کشیدگی ہوئی تھی، جب بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے 22 اپریل کو پہلگام میں سیاحوں پر ہونے والے حملے کا الزام پاکستان پر لگا دیا، 6 اور 7 مئی کو بھارت نے فضائی حملے کیے، جن میں عام شہری جاں بحق ہوئے، جس کے بعد ایک ہفتے تک میزائلوں کا تبادلہ ہوا، امریکی ثالثی کے تحت جنگ کا خاتمہ ہوا۔
سندھ حکومت کی جانب سے مفت داخلے کے لیے جن سرکاری میوزیمز کا ذکر کیا گیا ہے، ان میں قائداعظم ہاؤس میوزیم، موہنجو دڑو، سندھ پراونشل میوزیم (حیدرآباد)، لوک و ہنر میوزیم (سیہون شریف)، بھنھبور میوزیم (ٹھٹھہ کے قریب)، کوٹ ڈیجی میوزیم (خیرپور)، اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو میوزیم (لاڑکانہ) شامل ہیں۔ دیگر مقامات میں موکھی ہاؤس، عمرکوٹ فورٹ میوزیم، ناؤکوٹ فورٹ میوزیم، لار میوزیم (بدین)، ماروی کلچرل سینٹر (بھالوہ)، مسکین جہان خان کھوسو اور بھٹ شاہ کلچرل سینٹر شامل ہیں۔
نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ آثارِ قدیمہ اور تاریخی مقامات جیسے شاہجہان مسجد (ٹھٹھہ)، موہنجو دڑو، بھنبھور، کوٹ ڈیجی، ستیوں جو آستان، عمرکوٹ فورٹ، اور ناؤکوٹ فورٹ میں بھی داخلہ مفت ہوگا۔ اس کے علاوہ، محکمہ کی تمام اشاعتوں پر 50 فیصد رعایت دی جائے گی، جن میں کتابیں بھی شامل ہیں، جو سرکاری بک اسٹورز پر دستیاب ہیں، اور محکمہ کے زیرِ انتظام تمام سیاحتی مقامات پر بھی مفت رسائی ہوگی۔ کراچی میں واقع آرکائیوز گیلری، جہاں نایاب دستاویزات، مخطوطات، اور تصاویر رکھی گئی ہیں، میں بھی مفت داخلہ ہوگا، اسی طرح سمبارہ آرٹ گیلری (کراچی)، ظفر کاظمی آرٹ گیلری (حیدرآباد)، اور مہران آرٹس کونسل گیلری (حیدرآباد) میں بھی مفت رسائی دی جائے گی۔
نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ حیدرآباد، سکھر اور کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں شاندار میوزیکل شوز منعقد کیے جائیں گے۔ یہ فیصلہ محکمے کے صوبائی وزیر سید ذوالفقار علی شاہ کی زیرِ صدارت ایک اجلاس میں کیا گیا، جو وزیرِ اعلیٰ سندھ کی ہدایت پر منعقد کیا گیا تھا، اجلاس میں قائم مقام سیکریٹری، ڈائریکٹر جنرل آرکیالوجی اینڈ اینٹی کوئٹیز عبد الفتح شیخ، منیجنگ ڈائریکٹر ٹوورازم فیاض شاہ اور دیگر افسران نے بھی شرکت کی۔ اعلامیہ کے مطابق، ملک کے مشہور گلوکار موسیقی کے ان پروگرامز میں اپنی آواز کا جادو جگائیں گے، تمام سیاحتی، ثقافتی اور تاریخی مقامات کو روشن کیا جائے گا، قومی پرچم لہرائے جائیں گے، اس بار پوری قوم جوش و خروش کے ساتھ یومِ آزادی کا جشن منائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میں بھی مفت آرٹ گیلری
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔