ہمارے سیاسی مخالفین مکافاتِ عمل کا شکار ہیں: اسپیکر ایاز صادق
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
لاہور(ممتاز نیوز)سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا ہے کہ ہمارے سیاسی مخالفین مکافاتِ عمل کا شکار ہیں۔
تفصیلات کے مطابق لاہور کے علاقے لکھو ڈیر میں ترقیاتی سکیموں کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایاز صادق کا کہنا تھا کہ جنہوں نے ملک کو تباہی کی طرف دھکیلا آج اُن کا کوئی نام نہیں لے رہا۔
انہوں نے کہا کہ نوازشریف کی حکومت سازش کے تحت ختم کی گئی ، ان کی حکومت ختم کرکے ملک کی ترقی کا پہیہ روکا گیا، 2017 سے2023 تک ملک آگے جانے کے بجائے پیچھے گیا، وہ چیف جسٹس جو فرعون بن کر بیٹھا تھا آج اُس کا کوئی نام نہیں لیتا۔
سپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہبازشریف ملک کی بہتری کے لیے دن رات کام کررہے ہیں، ہمارے سیاسی مخالفین مکافاتِ عمل کا شکار ہے، انہی لوگوں نے2018 میں بیگم گلثوم نواز کے خلاف غیر اخلاقی باتیں کی گئیں، انہوں نے ہماری قیادت کا مذاق اڑایا۔
ایاز صادق نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے آئی ایم ایف کے لیے وعدوں سے روگردانی کی انہوں نے ملک کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا، ہماری قیادت نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، موجودہ الیکشن کے بعد ملک پھر ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا بھارت نے پہلگام واقعہ کے بعد پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگائے اور پاکستان کے خلاف جنگ شروع کر دی جس کا ہماری مسلح افواج نے عوام کی طاقت سے بھر پور جواب دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عمل کا شکار ایاز صادق
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔