مالدیپ کا پارلیمانی وفد اسپیکر عوامی مجلس کی قیادت میں پاکستان پہنچے گا
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی خصوصی دعوت پر مالدیپ کی عوامی مجلس (People’s Majlis) کا پارلیمانی وفد کل (16 ستمبر) 5 روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچے گا۔ وفد کی قیادت اسپیکر عوامی مجلس عبدالرحیم عبداللہ کریں گے۔
ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان پارلیمانی و سیاسی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات مشترکہ عقائد، ثقافتی ہم آہنگی اور باہمی احترام پر مبنی ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان اسرائیل کو ریاست نہیں، دہشتگرد تنظیم کے طور پر تسلیم کرتا ہے:سردار ایاز صادق
پاکستان میں قیام کے دوران وفد اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، ملکی سیاسی قیادت، پاکستان–مالدیپ پارلیمانی فرینڈشپ گروپ اور ارکانِ پارلیمنٹ سے ملاقاتیں کرے گا۔ ان ملاقاتوں میں قانون سازی، عوامی روابط اور علاقائی تعاون کو فروغ دینے کے امور زیر بحث آئیں گے۔
وفد اسلام آباد کے تاریخی اور ثقافتی مقامات کا بھی دورہ کرے گا۔ پارلیمانی قیادت کا یہ دورہ اسپیکر ایاز صادق کی پارلیمانی سفارتکاری کے اقدامات کا حصہ ہے، جس کا مقصد دنیا بھر کی مقننہ کے ساتھ تعمیری مکالمے اور تعاون کے نئے مواقع فراہم کرنا ہے۔
مزید پڑھیں: صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے معیاری خوراک کی فراہمی ناگزیر ہے ،سردار ایاز صادق
ترجمان کے مطابق، مالدیپ کے پارلیمانی وفد کا یہ دورہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کا باعث بنے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپیکر عوامی مجلس سردار ایاز صادق مالدیپ کا پارلیمانی وفد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپیکر عوامی مجلس سردار ایاز صادق سردار ایاز صادق پارلیمانی وفد عوامی مجلس
پڑھیں:
طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
افغان طالبان رجیم کی مرکزی قیادت اور بدخشاں کے مقامی کمانڈروں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔
طالبان رجیم کے خلاف بغاوت کے اشارے ملنے پر ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے نیا حکم جاری کردیا گیا ہے۔ بدخشاں کے معدنی وسائل پر لڑائی اور عوامی بغاوت کے بعد امیر ہبت اللہ نے حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک سخت حکم نامہ جاری کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بدخشاں کے ناراض طالبان کمانڈروں اور حکام کے اثاثوں کی تفتیش کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد مقرر کردیاگیا ہے۔ طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ کا حکم نہ ماننے والے مقامی کمانڈروں کو فوراً گرفتار کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بدخشاں میں جاری عوامی احتجاج اور بڑھتی ہوئی اندرونی بغاوت کو دبانے کے لیے خصوصی فوجی دستہ بھی تعینات کر دیاگیا ہے۔ قندھار گروپ نے بدخشاں گروپ کے ناراض طالبان رہنماؤں پر دباو ڈالنے کے لیے گرفتاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔ اس دوران مقامی طالبان کمانڈر موسیٰ کاکے اور سابق مائنز ڈائریکٹر اسلام الدین کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیا۔
عالمی ماہرین کے مطابق بدخشاں میں جاری لڑائی افغان طالبان کے اندر گہرے ہوتے ہوئے نسلی اور سیاسی اختلافات کا واضح ثبوت ہے۔ طالبان رجیم کیخلاف ملک کے اندر اور باہر شروع ہونے والی نئی تحریکیں،ان کے مکمل کنٹرول اور عوامی حمایت کے جھوٹے دعووں کی پول کھول رہی ہیں۔