ایک بیان میں گنہور خان اسران نے کہا کہ کے فور منصوبے کی فزیبلٹی جماعت اسلامی کے ناظم نعمت اللہ خان دور میں ناقص انداز میں بنائی گئی، جس کی قیمت آج سندھ حکومت کو ادا کرنا پڑ رہی ہے، پیپلز پارٹی نے کے فور منصوبے کو صوبائی حکومت کے تحت لے کر ازسرِ نو ڈیزائن کرایا، اب تعمیراتی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں اسلام ٹائمز۔ حکومت سندھ کے ترجمان گنہور خان اسران نے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کا وطیرہ ہی الزام تراشی، نفرت، جھوٹ اور منافقت ہے، جماعت اسلامی کے پاس نہ کوئی ترقیاتی منصوبہ ہے، نہ ویژن، صرف گمراہ کن بیانات اور الزام ہیں۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے بلدیاتی نمائندے خود اپنے علاقوں میں عوام کو ریلیف دینے میں مکمل طور پر ناکام ہیں، جو جماعت اپنے بلدیاتی ٹاؤنز کا نظام درست نہیں رکھ سکتی، وہ پورے کراچی پر تنقید کا کوئی اخلاقی یا سیاسی حق نہیں رکھتی۔ حکومت سندھ کے ترجمان گنہور خان اسران نے کہا کہ جماعت اسلامی اس وقت کراچی کے سات اہم ٹاؤنز میں برسرِ اقتدار ہے، اربوں روپے کا بجٹ جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئرمینز کو دیا گیا لیکن ناظم آباد، لیاقت آباد، کورنگی، بلدیہ، گلبرگ، جمشید اور نیو کراچی میں گٹر ابل رہے ہیں، عوام جماعت اسلامی سے اربوں روپوں کے بجٹ کا حساب مانگتی تو ڈھٹائی سے حکومت سندھ پر الزام ڈال دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جہاں جہاں جماعت کے ٹاؤن چیئرمین ہیں وہاں گندگی، ٹوٹی سڑکیں، ابلتے گٹر، خراب اسٹریٹ لائٹس اور صفائی ستھرائی کا مکمل فقدان عوام کا مقدر بن چکا ہے۔ ترجمان سندھ حکومت گنہور خان اسران نے کہا کہ کے فور منصوبے کی فزیبلٹی جماعت اسلامی کے ناظم نعمت اللہ خان دور میں ناقص انداز میں بنائی گئی، جس کی قیمت آج سندھ حکومت کو ادا کرنا پڑ رہی ہے، پیپلز پارٹی نے کے  فور منصوبے کو صوبائی حکومت کے تحت لے کر ازسرِ نو ڈیزائن کرایا، اب تعمیراتی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اجرک جیسے ثقافتی اثاثے کو ڈرامہ قرار دینا نہ صرف سندھی عوام کی توہین بلکہ جماعت اسلامی کی تعصب کو ظاہر کرتا ہے، پیپلز پارٹی نے کراچی میں تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ، اور انفراسٹرکچر کے بڑے منصوبے شروع کیے اور مکمل کیے، عوام کو سمجھ آ چکی ہے کہ کراچی کی ترقی جماعت اسلامی کے نعروں سے نہیں، صرف پیپلز پارٹی کے وژن سے ممکن ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: گنہور خان اسران نے جماعت اسلامی کے کہ جماعت اسلامی پیپلز پارٹی فور منصوبے سندھ حکومت نے کہا کہ

پڑھیں:

بجٹ میں اراکین پارلیمنٹ کے لاجز کی تعمیر کیلئے ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں اراکین پارلیمنٹ کے اہل خانہ کی اضافی رہائش گاہوں کی تعمیرکے منصوبے کے لیے ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزکے مطابق اراکین پارلیمنٹ کےلیے اضافی فیملی سوٹس بشمول 500 سرونٹ کوارٹرزکی تعمیر کے منصوبے کے لیے آئندہ مالی سال ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ 

منصوبے کی مجموعی لاگت 7 ارب 40کروڑروپے ہے اور 30 جون 2026 تک اس پر 2 ارب 29 کروڑ روپےکے اخراجات کا تخمینہ ہے۔

15جون تک مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو ملک گیر ہڑتال ہو گی، پٹرول پمپ مالکان

دستاویزات کے مطابق اسلام آباد کے سیکٹر جی فائیو ٹو میں اس کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ موجودہ پارلیمنٹ لاجز سے متصل ممبران پارلیمنٹ کے لیے 104 فیملی سوٹس تعمیر کیے جا ر ہے ہیں جن کی فنشنگ کا کا م جاری ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • بجٹ میں اراکین پارلیمنٹ کے لاجز کی تعمیر کیلئے ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار