تعلیم اور درسگاہوںکے مسائل
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
ملک اقتصادی بحران سے گزر رہا ہے۔ وفاقی بجٹ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے مختص بجٹ میں کمی کردی گئی جس کا منطقی نتیجہ یہ برآمد ہوا ہے کہ وفاق اور صوبوں کی زیرِ انتظام یونیورسٹیوں میں مالیاتی بحران بڑھ گیا ہے مگر پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کی نگرانی کرنے والے ادارے کی بیوروکریسی کی شاہ خرچیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔
گزشتہ ہفتے ایچ ای سی کے حوالے سے یہ خبر ذرایع ابلاغ پر خوب اجاگر ہوئی کہ ایچ ای سی کی بااختیار اتھارٹی نے اپنے کنٹریکٹ ملازمین اور ان کی شریک حیات کے لیے ملازمت کے بعد ہیلتھ بینیفٹس جاری رکھنے کی منظوری دیدی ہے۔
ایچ ای سی کے 44 ویں اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس پالیسی کے تحت کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ملازمین، عام ملازمین سے لے کر چیئرمین اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت اعلیٰ افسران جن کی ماہانہ تنخواہیں پانچ لاکھ اور اس سے زیادہ ہیں۔ اس پالیسی سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ ایک طرف تعلیمی بجٹ کی کمی کے باوجود یہ صورت حال ہے تو دوسری طرف وفاق اور صوبوں کی زیر نگرانی یونیورسٹیوں میں تعلیمی، انتظامی اور مالیاتی بحران کم ہونے کے بجائے بڑھتا جا رہا ہے۔
سابق صدر پرویز مشرف نے آئین کے تحت اردو کو قومی زبان قرار دینے کے فیصلے کے تحت کراچی میں قائم وفاقی اردو کالجز کو وفاقی اردو یونیورسٹی کی حیثیت دینے کا فیصلہ کیا تھا، یوں 2002 میں ایک اسپیشل آرڈیننس کے تحت وفاقی اردو یونیورسٹی قائم ہوئی۔ وفاقی اردو یونیورسٹی 2017سے مختلف مسائل کا شکار ہے۔ اردو یونیورسٹی کے 2017سے ریٹائر ہونے والے اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کے ارکان واجبات سے محروم ہیں۔ موجودہ اساتذہ اور عملے کو بھی تنخواہ اور رینٹل سیلنگ الاؤنس نہ ملنے جیسے مسائل درپیش ہیں۔ ریٹائرڈ اساتذہ اور عملے کی کئی ماہ کی پنشن ابھی تک ادا نہیں ہوسکی۔ اس دوران اردو یونیورسٹی کے 10 ریٹائرڈ اساتذہ اور ریٹائرڈ عملے کے 5 اراکین انتقال کرچکے ہیں۔
گزشتہ 6 ماہ کے دوران حاضر سروس ایک سینئر خاتون پروفیسر اور ایک اسسٹنٹ رجسٹرار بھی انتقال کرگئے، یوں 200 سے زائد خاندان مصائب کا شکار ہیں۔ وفاقی انفارمیشن کمیشن کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق اردو یونیورسٹی نے 67 کروڑ روپے کی رقم مختلف بینکوں کے اکاؤنٹس میں ڈپازٹ کی گئی ہے جس پر ہر سال منافع بھی ملتا ہے، مگر معاملہ صرف وفاقی اردو یونیورسٹی کا نہیں بلکہ وفاق کے زیرِ انتظام دیگر یونیورسٹیاں بھی مالیاتی مسائل کا شکار ہیں۔ ان یونیورسٹیوں کے پاس تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے بعض اوقات مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔
بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی یونیورسٹیوں میں بھی اسی نوعیت کا بحران ہے۔ ان یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور عملے کے لوگ بھی کئی کئی دفعہ تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے سڑکوں پر احتجاج پر مجبور ہوتے ہیں۔ ایچ ای سی نے یونیورسٹیوں کو مسلسل ہدایات جاری کی ہیں کہ یونیورسٹیاں نئے وسائل پیدا کریں۔ سرکاری یونیورسٹیوں کے پاس خطہ اراضی فروخت کرنے، طلبہ کی فیسوں میں اضافہ کرنے اور تعلیمی شعبہ جات کو بند کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نظر نہیں آتا۔ تحریک انصاف کی حکومت نے یونیورسٹیوں کو مالیاتی کمک کی فراہمی کے لیے قیمتی اراضی فروخت کرنے کی تجویز پیش کی تھی مگر اس وقت کے ایچ ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر بنوری کی شدید مخالفت کی بناء پر اس پالیسی پر عمل نہ ہوسکا۔
ڈاکٹر بنوری کا کہنا تھا کہ اراضی کی فروخت کے معاملات میں لینڈ مافیا کی مداخلت بڑھ جانے کے خدشات ہیں۔ ایچ ای سی نے یونیورسٹیوں پر زور دیا کہ طلبہ سے لی جانے والی فیسوں، امتحانات، انرولمنٹ، مارک شیٹ اور ڈگریوں کے اجراء اور دستاویزات کی تصدیق کے لیے وصول کی جانے والی فیسوں میں کئی سو گنا اضافہ کیا جائے۔ اس فیصلے سے نچلے متوسط طبقے کے طلبہ کے علاوہ متوسط طبقے کے طلبہ بھی متاثر ہوئے۔ بہت سے طالب علموں نے فیس کی رقم نہ ہونے کی بناء پر تعلیم کو خیرباد کہہ دیا۔
گزشتہ سال کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق کراچی یونیورسٹی کے مختلف پروگراموں میں زیرِ تعلیم 30 سے 40 فیصد طلبہ نے فیس جمع نہیں کرائی تھی۔ فیسوں میں اضافے کے فیصلے سے غریب طلبہ خاندانوں کے طلبہ سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ بلوچستان میں غربت کی لکیر کے نیچے 70 فیصد آبادی زندگی گزار رہی ہے۔ ہر 10 میں سے چوتھا آدمی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ بلوچستان میں طلبہ کی اکثریت مختلف اسکالر شپس پر تعلیم حاصل کرتی ہے مگر صوبائی حکومت کے وظائف کی تعداد محدود ہوگئی ہے۔ اب یونیورسٹیاں اپنے فنڈ سے فیس معاف کرنے کے بجائے محکمہ بیت المال سے رجوع کرنے کی ہدایت کرتی ہیں۔ بیت المال زکوۃ کی رقم سے مخصوص زمرہ جات کے طلبہ کو ملتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مختلف یونیورسٹیوں میں داخلے کی شرح کم ہوئی۔ سرکاری یونیورسٹیاں سوشل سائنس کے مضامین کے علاوہ بیسک سائنس کے بعض مضامین کی تدریس بند کرنے پر مجبور ہوئی ہیں۔ اس فیصلے سے اردو، سندھی، بلوچی، پشتو اور براہوی زبان میں تعلیم کے راستے میں مسائل پیدا ہوئے ہیں ۔
یونیورسٹیوں میں زبانوں کے علم کے علاوہ سماجی علوم اور بیسک سائنس کے شعبوں کے بند ہونے سے نظامِ تعلیم پر سخت منفی نتائج برآمد ہوںگے، اگر ان شعبوں میں تدریس بند رہی تو پھر اسکولوں اورکالجوں میں بنیادی مضامین کی تدریس کے لیے اساتذہ دستیاب نہیں ہوںگے۔ ایک اور رپورٹ کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب اور اسلام آباد کی اہم یونیورسٹیوں میں بیسک سائنس کے مضامین میں طلبہ کی تعداد کم ہوگئی ہے۔ مختلف زبانوں پر تحقیق کے مراکز کے علاوہ دنیا کے مختلف خطوں کے مسائل پر تحقیق کرنے والے سینٹروں کی بندش سے قومی زبانوں کی ترقی رک جائے گی ۔
وزیر اعظم کو اعلیٰ تعلیم کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر فوری توجہ دینی چاہیے ۔ حکومت کو یونیورسٹیوں کے مالیاتی بحرانوں کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ نئے اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی 300 یونیورسٹیوں میں کوئی پاکستانی یونیورسٹی شامل نہیں ہے۔ اس خواب کو پورا کرنے کے لیے حقیقی اقدامات کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وفاقی اردو یونیورسٹی یونیورسٹیوں میں یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور ایچ ای سی کے علاوہ سائنس کے کے طلبہ کے لیے کے تحت
پڑھیں:
نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
امریکہ نے بین الاقوامی طلبہ کے لیے ویزا قوانین میں اہم تبدیلیوں کی تجویز پیش کی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستانی طلبہ سمیت دنیا بھر سے امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ویزا نظام کو مزید مؤثر بنانا، امیگریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا اور ویزا کے ممکنہ غلط استعمال کی روک تھام کرنا ہے۔
نئی ویزا پالیسی میں کیا تبدیلیاں ہوں گی؟نئی تجویز کے مطابق بین الاقوامی طلبہ کو پہلے کی طرح اپنے پورے تعلیمی پروگرام کی مدت کے بجائے محدود مدت کے لیے امریکہ میں قیام کی اجازت دی جائے گی۔ زیادہ تر طلبہ کے لیے یہ مدت چار سال ہوگی، جبکہ اگر کسی طالب علم کا تعلیمی یا تحقیقی پروگرام اس سے زیادہ عرصہ لیتا ہے تو اسے امریکہ میں مزید قیام کے لیے الگ سے توسیع کی درخواست دینا ہوگی۔ اس کے علاوہ تعلیم مکمل ہونے کے بعد امریکہ چھوڑنے کے لیے دی جانے والی رعایتی مدت کو بھی کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے باعث طلبہ کو اپنی آئندہ منصوبہ بندی پہلے سے زیادہ احتیاط کے ساتھ کرنا ہوگی۔
پاکستانی طلبہ پر ممکنہ اثراتہر سال بڑی تعداد میں پاکستانی طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ کا رخ کرتے ہیں، خصوصاً ماسٹرز، پی ایچ ڈی اور تحقیقی پروگراموں میں داخلہ لینے والے طلبہ۔ نئی پالیسی نافذ ہونے کی صورت میں ایسے طلبہ کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے دوران اضافی ویزا کارروائی، مزید دستاویزات اور ممکنہ سیکیورٹی جانچ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث بعض طلبہ امریکہ کے بجائے دیگر ممالک میں تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دے سکتے ہیں۔
امریکی حکومت کا مؤقفامریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کا مقصد قومی سلامتی کو مضبوط بنانا، ویزا نظام میں شفافیت پیدا کرنا اور ایسے افراد کی مؤثر نگرانی کرنا ہے جو طویل عرصے تک امریکہ میں قیام کرتے ہیں۔ حکام کے مطابق نئی پالیسی ویزا اوور اسٹے اور دیگر بے ضابطگیوں کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوگی۔
تعلیمی اداروں کے تحفظات دوسری جانب کئی امریکی جامعات اور تعلیمی ماہرین نے مجوزہ تبدیلیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر طلبہ کو بار بار ویزا کی تجدید یا مدت میں توسیع کے مراحل سے گزرنا پڑا تو اس سے نہ صرف غیر ملکی طلبہ کے لیے مشکلات بڑھیں گی بلکہ امریکی جامعات کی عالمی سطح پر کشش بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر طویل المدتی تحقیقی پروگراموں میں داخل طلبہ کے لیے یہ قوانین اضافی مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں امریکی ویزا سروس عارضی طور پر معطل
لاہور کے 22 سالہ عاصم علی، جو ایک طویل عرصے سے امریکہ سے ماسٹرز کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں، اس مجوزہ پالیسی کو اپنے مستقبل کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھتے ہیں۔ عاصم کا کہنا ہے کہ ہم جیسے متوسط طبقے کے طلبہ کے لیے امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ ہی ایک بہت بڑا مالیاتی جوا ہوتا ہے، جہاں بینک اسٹیٹمنٹ کا بندوبست کرنے سے لے کر مہنگی فیسوں کی ادائیگی تک، سب کچھ داؤ پر لگا ہوتا ہے۔
ان کے مطابق، زمینی حقیقت یہ ہے کہ اگر چار سال بعد دوبارہ ویزا کی تجدید کا قانون لاگو ہوتا ہے، تو طلبہ پر ہر وقت ویزا ریجیکٹ ہونے اور لاکھوں روپے ڈوبنے کا خوف مسلط رہے گا۔ عاصم کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ جا کر بھی مستقبل غیر یقینی کا شکار رہنا ہے، تو پاکستانی طلبہ کے لیے کینیڈا یا جرمنی جیسے ممالک اب زیادہ بہتر اور محفوظ آپشن بن چکے ہیں۔
راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر سمیرا ناز، جو بائیوٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کے لیے امریکی یونیورسٹی میں داخلے کی خواہشمند ہیں، اس پالیسی کو خاص طور پر تحقیقی طلبہ کے لیے ناانصافی قرار دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سائنس کے شعبوں میں پی ایچ ڈی اور ریسرچ پروجیکٹس اکثر چار سال سے زیادہ کا عرصہ لے لیتے ہیں اور لیب کے کام کی نوعیت ایسی ہوتی ہے جس کی مدت کا پہلے سے سو فیصد تعین ممکن نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی ویزا منسوخی میں 150 فیصد اضافہ، ٹرمپ انتظامیہ کا ریکارڈ دعویٰ
سمیرا کہتی ہیں کہ پاکستانی طلبہ کو پہلے ہی انتظامی کارروائی اور سخت سیکیورٹی اسکریننگ کی وجہ سے مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اب اگر تعلیم کے دوران بار بار اسی ذہنی اذیت اور کاغذی کارروائی سے گزرنا پڑا، تو کسی بھی طالب علم کے لیے یکسوئی سے ریسرچ کرنا ناممکن ہو جائے گا، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکہ اب غیر ملکی ٹیلنٹ کا خیرمقدم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔
امریکی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے طالب علم پرویز خان کا کہنا ہے کہ امریکی ویزا پالیسی میں حالیہ تبدیلیاں ان جیسے محققین کے لیے شدید ذہنی دباؤ اور غیر یقینی کا باعث بنتی ہیں۔ پی ایچ ڈی چونکہ ایک طویل المدتی تحقیقی سفر ہے، اس لیے محدود مدت کے ویزا کی پالیسی اور بار بار ویزا تجدید کے مراحل ان کی تعلیمی اور تحقیقی ٹائم لائنز کو بری طرح متاثر کریں گے۔ اب امریکی جامعات بھی طلبہ کی تحقیقی صلاحیت کے بجائے ویزا اسٹیٹس اور سخت امیگریشن ڈیڈ لائنز کو ترجیح دینے پر مجبور ہو گئی ہیں، جس سے علمی کام میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔
تاہم، پرویز خان کا ماننا ہے کہ اس صورتحال کی ایک وجہ خود پاکستانی طلبہ کی جانب سے اکیڈمک اور امیگریشن قوانین سے لاپروائی بھی ہے۔ بہت سے طلبہ امریکی تعلیمی نظام کی حساسیت کو سمجھے بغیر سرقہ بازی یا چیٹنگ جیسی غلطیاں کر بیٹھتے ہیں، جس سے نہ صرف ان کا تعلیمی کیریئر ختم ہوتا ہے بلکہ امیگریشن ریکارڈ پر منفی اثر پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کی نئی ویزا پالیسی: کیا اب ذیابیطس اور موٹاپے کے شکار افراد کو امریکی ویزا نہیں ملے گا؟
اس کے علاوہ، ورک پرمٹ کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیمپس سے باہر غیر قانونی کام کرنا، یونیورسٹی کی جانب سے مطلوبہ فل ٹائم انرولمنٹ برقرار نہ رکھنا، یا محض قیام کو طول دینے کے لیے بلاوجہ اپنے تحقیقی موضوعات کو تبدیل کرنا ایسے عوامل ہیں جو امریکی حکام کے نزدیک شک کا باعث بنتے ہیں۔ پرویز کا کہنا ہے کہ پی ایچ ڈی کے طلبہ کو ان تکنیکی اور قانونی معاملات میں انتہائی محتاط رہنا ہوگا، کیونکہ قوانین سے معمولی سی لاپروائی بھی اب ان کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے کے لیے کافی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ نئی ویزا پالیسی نافذ ہو جاتی ہے تو امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند پاکستانی طلبہ کو پہلے سے زیادہ محتاط منصوبہ بندی، مکمل دستاویزات کی تیاری اور ویزا قوانین پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔ اگرچہ اس پالیسی کا مقصد ویزا نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے، تاہم اس کے اثرات بین الاقوامی طلبہ، بالخصوص پاکستانی طلبہ، پر نمایاں طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news امریکا پاکستان پاکستانی طلبا نئی پالیسی ویزا