Express News:
2026-06-03@05:22:43 GMT

تعلیم اور درسگاہوںکے مسائل

اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT

ملک اقتصادی بحران سے گزر رہا ہے۔ وفاقی بجٹ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے مختص بجٹ میں کمی کردی گئی جس کا منطقی نتیجہ یہ برآمد ہوا ہے کہ وفاق اور صوبوں کی زیرِ انتظام یونیورسٹیوں میں مالیاتی بحران بڑھ گیا ہے مگر پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کی نگرانی کرنے والے ادارے کی بیوروکریسی کی شاہ خرچیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔

گزشتہ ہفتے ایچ ای سی کے حوالے سے یہ خبر ذرایع ابلاغ پر خوب اجاگر ہوئی کہ ایچ ای سی کی بااختیار اتھارٹی نے اپنے کنٹریکٹ ملازمین اور ان کی شریک حیات کے لیے ملازمت کے بعد ہیلتھ بینیفٹس جاری رکھنے کی منظوری دیدی ہے۔

ایچ ای سی کے 44 ویں اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس پالیسی کے تحت کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ملازمین، عام ملازمین سے لے کر چیئرمین اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت اعلیٰ افسران جن کی ماہانہ تنخواہیں پانچ لاکھ اور اس سے زیادہ ہیں۔ اس پالیسی سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ ایک طرف تعلیمی بجٹ کی کمی کے باوجود یہ صورت حال ہے تو دوسری طرف وفاق اور صوبوں کی زیر نگرانی یونیورسٹیوں میں تعلیمی، انتظامی اور مالیاتی بحران کم ہونے کے بجائے بڑھتا جا رہا ہے۔

سابق صدر پرویز مشرف نے آئین کے تحت اردو کو قومی زبان قرار دینے کے فیصلے کے تحت کراچی میں قائم وفاقی اردو کالجز کو وفاقی اردو یونیورسٹی کی حیثیت دینے کا فیصلہ کیا تھا، یوں 2002 میں ایک اسپیشل آرڈیننس کے تحت وفاقی اردو یونیورسٹی قائم ہوئی۔ وفاقی اردو یونیورسٹی 2017سے مختلف مسائل کا شکار ہے۔ اردو یونیورسٹی کے 2017سے ریٹائر ہونے والے اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کے ارکان واجبات سے محروم ہیں۔ موجودہ اساتذہ اور عملے کو بھی تنخواہ اور رینٹل سیلنگ الاؤنس نہ ملنے جیسے مسائل درپیش ہیں۔ ریٹائرڈ اساتذہ اور عملے کی کئی ماہ کی پنشن ابھی تک ادا نہیں ہوسکی۔ اس دوران اردو یونیورسٹی کے 10 ریٹائرڈ اساتذہ اور ریٹائرڈ عملے کے 5 اراکین انتقال کرچکے ہیں۔

گزشتہ 6 ماہ کے دوران حاضر سروس ایک سینئر خاتون پروفیسر اور ایک اسسٹنٹ رجسٹرار بھی انتقال کرگئے، یوں 200 سے زائد خاندان مصائب کا شکار ہیں۔ وفاقی انفارمیشن کمیشن کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق اردو یونیورسٹی نے 67 کروڑ روپے کی رقم مختلف بینکوں کے اکاؤنٹس میں ڈپازٹ کی گئی ہے جس پر ہر سال منافع بھی ملتا ہے، مگر معاملہ صرف وفاقی اردو یونیورسٹی کا نہیں بلکہ وفاق کے زیرِ انتظام دیگر یونیورسٹیاں بھی مالیاتی مسائل کا شکار ہیں۔ ان یونیورسٹیوں کے پاس تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے بعض اوقات مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔

 بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی یونیورسٹیوں میں بھی اسی نوعیت کا بحران ہے۔ ان یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور عملے کے لوگ بھی کئی کئی دفعہ تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے سڑکوں پر احتجاج پر مجبور ہوتے ہیں۔ ایچ ای سی نے یونیورسٹیوں کو مسلسل ہدایات جاری کی ہیں کہ یونیورسٹیاں نئے وسائل پیدا کریں۔ سرکاری یونیورسٹیوں کے پاس خطہ اراضی فروخت کرنے، طلبہ کی فیسوں میں اضافہ کرنے اور تعلیمی شعبہ جات کو بند کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نظر نہیں آتا۔ تحریک انصاف کی حکومت نے یونیورسٹیوں کو مالیاتی کمک کی فراہمی کے لیے قیمتی اراضی فروخت کرنے کی تجویز پیش کی تھی مگر اس وقت کے ایچ ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر بنوری کی شدید مخالفت کی بناء پر اس پالیسی پر عمل نہ ہوسکا۔

ڈاکٹر بنوری کا کہنا تھا کہ اراضی کی فروخت کے معاملات میں لینڈ مافیا کی مداخلت بڑھ جانے کے خدشات ہیں۔ ایچ ای سی نے یونیورسٹیوں پر زور دیا کہ طلبہ سے لی جانے والی فیسوں، امتحانات، انرولمنٹ، مارک شیٹ اور ڈگریوں کے اجراء اور دستاویزات کی تصدیق کے لیے وصول کی جانے والی فیسوں میں کئی سو گنا اضافہ کیا جائے۔ اس فیصلے سے نچلے متوسط طبقے کے طلبہ کے علاوہ متوسط طبقے کے طلبہ بھی متاثر ہوئے۔ بہت سے طالب علموں نے فیس کی رقم نہ ہونے کی بناء پر تعلیم کو خیرباد کہہ دیا۔

گزشتہ سال کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق کراچی یونیورسٹی کے مختلف پروگراموں میں زیرِ تعلیم 30 سے 40 فیصد طلبہ نے فیس جمع نہیں کرائی تھی۔ فیسوں میں اضافے کے فیصلے سے غریب طلبہ خاندانوں کے طلبہ سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ بلوچستان میں غربت کی لکیر کے نیچے 70 فیصد آبادی زندگی گزار رہی ہے۔ ہر 10 میں سے چوتھا آدمی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ بلوچستان میں طلبہ کی اکثریت مختلف اسکالر شپس پر تعلیم حاصل کرتی ہے مگر صوبائی حکومت کے وظائف کی تعداد محدود ہوگئی ہے۔ اب یونیورسٹیاں اپنے فنڈ سے فیس معاف کرنے کے بجائے محکمہ بیت المال سے رجوع کرنے کی ہدایت کرتی ہیں۔ بیت المال زکوۃ کی رقم سے مخصوص زمرہ جات کے طلبہ کو ملتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مختلف یونیورسٹیوں میں داخلے کی شرح کم ہوئی۔ سرکاری یونیورسٹیاں سوشل سائنس کے مضامین کے علاوہ بیسک سائنس کے بعض مضامین کی تدریس بند کرنے پر مجبور ہوئی ہیں۔ اس فیصلے سے اردو، سندھی، بلوچی، پشتو اور براہوی زبان میں تعلیم کے راستے میں مسائل پیدا ہوئے ہیں ۔

یونیورسٹیوں میں زبانوں کے علم کے علاوہ سماجی علوم اور بیسک سائنس کے شعبوں کے بند ہونے سے نظامِ تعلیم پر سخت منفی نتائج برآمد ہوںگے، اگر ان شعبوں میں تدریس بند رہی تو پھر اسکولوں اورکالجوں میں بنیادی مضامین کی تدریس کے لیے اساتذہ دستیاب نہیں ہوںگے۔ ایک اور رپورٹ کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب اور اسلام آباد کی اہم یونیورسٹیوں میں بیسک سائنس کے مضامین میں طلبہ کی تعداد کم ہوگئی ہے۔ مختلف زبانوں پر تحقیق کے مراکز کے علاوہ دنیا کے مختلف خطوں کے مسائل پر تحقیق کرنے والے سینٹروں کی بندش سے قومی زبانوں کی ترقی رک جائے گی ۔

 وزیر اعظم کو اعلیٰ تعلیم کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر فوری توجہ دینی چاہیے ۔ حکومت کو یونیورسٹیوں کے مالیاتی بحرانوں کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ نئے اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی 300 یونیورسٹیوں میں کوئی پاکستانی یونیورسٹی شامل نہیں ہے۔ اس خواب کو پورا کرنے کے لیے حقیقی اقدامات کی ضرورت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وفاقی اردو یونیورسٹی یونیورسٹیوں میں یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور ایچ ای سی کے علاوہ سائنس کے کے طلبہ کے لیے کے تحت

پڑھیں:

سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک

سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئےفتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 24 مئی کو پیش آنے والے ٹرین واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں انٹیلی جنس بنیادوں پر متعدد آپریشنز کیے۔

مزید پڑھیں: بلوچستان میں دہشتگردی کرنے والے پاکستان کے دشمن، ان کی کوئی ناراضی نہیں، رانا ثنااللہ

آئی ایس پی آر کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ شدید اور سخت فائرنگ کے تبادلے کے بعد بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الہندستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے، جس سے ان علاقوں میں سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مارے گئے دہشتگرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں سرگرم رہے تھے۔

ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد اور تیار شدہ دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) بھی برآمد کیے گئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ان علاقوں سے دہشتگردوں کے مکمل خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشنز بدستور جاری ہیں۔

مزید پڑھیں: علما کرام کی جانب سے بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت، امن اور مکالمے پر زور

بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ وژن ’عزمِ استحکام‘ کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسداد دہشت گردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشتگردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews آئی ایس پی آر بلوچستان دہشتگرد ہلاک سیکیورٹی فورسز وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ