قائداعظم یونیورسٹی کے تمام ہاسٹلز خالی، پولیس نے بڑی کارروائی کیوں کی؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے آج صبح قائداعظم یونیورسٹی میں ہاسٹلز خالی کرانے کے لیے کارروائی کی، جو طلبا کو دی گئی حتمی مہلت کے بعد عمل میں لائی گئی۔ اس کارروائی کے دوران پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی کو یقینی بنایا گیا تاکہ کسی ناخوشگوار صورتِحال سے بچا جا سکے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق، 13 جولائی سے موسمِ گرما کی تعطیلات کے دوران ہاسٹلز کو عارضی طور پر بند کیا گیا تھا تاکہ سالانہ صفائی، مرمت اور تزئین و آرائش کا کام مکمل کیا جا سکے۔ بیشتر طلبا اس فیصلے پر عمل کرتے ہوئے ہاسٹلز خالی کر چکے تھے، تاہم بعض طلبہ مسلسل انکار کرتے رہے، جنہیں متعدد تحریری نوٹس، کالز اور ملاقاتوں کے ذریعے جگہ خالی کرنے کی ہدایات دی جا چکی تھیں۔
یونیورسٹی ذرائع کے مطابق، ہاسٹلز میں کئی ایسے طلبا بھی مقیم تھے جن کی تعلیم مکمل ہو چکی تھی لیکن وہ ہاسٹل خالی کرنے کو تیار نہیں تھے۔ ایک فیکلٹی ممبر نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، بتایا کہ ان میں سے کئی طلبا نہ صرف ہاسٹل میں غیر قانونی طور پر مقیم تھے بلکہ فیس بھی ادا نہیں کر رہے تھے۔ اس صورتحال کے باعث نئے آنے والے طلبہ کو رہائش میں مشکلات کا سامنا تھا۔
مزید پڑھیں: قائداعظم یونیورسٹی: طلبا کے 2 گروپوں میں تصادم، بوائز ہاسٹل خالی کرنے کی ہدایت
یونیورسٹی انتظامیہ نے مزید انکشاف کیا کہ ہاسٹلز میں بڑی تعداد میں غیر قانونی ایئر کنڈیشنرز نصب کیے گئے تھے، جس کی وجہ سے بجلی کا ماہانہ بل 5 کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا تھا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد صرف مالی بوجھ کم کرنا نہیں بلکہ ادارے کی سہولیات کو محفوظ اور پائیدار بنانا بھی ہے۔
اس سے قبل بعض طلبا نے ضلعی انتظامیہ کی کارروائی کو عدالت میں چیلنج کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے قائداعظم یونیورسٹی ایکٹ 1973 کے تحت ادارے کی خودمختاری تسلیم کرتے ہوئے یہ درخواست ناقابلِ سماعت قرار دے کر خارج کر دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ یونیورسٹی کو اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد کا مکمل اختیار حاصل ہے۔
قائداعظم یونیورسٹی نے اپنے حالیہ بیان میں ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ نظم و ضبط، تعلیمی معیار اور ادارہ جاتی خودمختاری کو برقرار رکھتے ہوئے طلبا کے لیے ایک محفوظ، باوقار اور سازگار تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
قائداعظم یونیورسٹی ہاسٹلز خالی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: قائداعظم یونیورسٹی ہاسٹلز خالی قائداعظم یونیورسٹی کرنے کی خالی کر کے لیے
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔