UrduPoint:
2026-07-24@12:35:09 GMT

اب آپ سعودی عرب میں جائیدادیں خرید سکتے ہیں، لیکن کیسے؟

اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT

اب آپ سعودی عرب میں جائیدادیں خرید سکتے ہیں، لیکن کیسے؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 30 جولائی 2025ء) سعودی عرب کے سرکاری اخبار ’ام القری گزٹ‘ میں گزشتہ دنوں شائع ہونے والے نئے قانون کے مطابق، یہ ضابطہ 180 دن بعد نافذ العمل ہو گا۔ اس قانون کے تحت غیر ملکی افراد اور کمپنیاں سعودی عرب میں مخصوص شرائط کے تحت جائیداد خرید سکیں گی۔

یہ فیصلہ 'ویژن 2030‘ منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد سعودی معیشت کو تیل پر انحصار سے نکال کر مختلف شعبوں میں وسعت دینا ہے۔

اگرچہ نئی پالیسی میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے دروازے کھولے گئے ہیں، لیکن مکہ اور مدینہ میں مذہبی و ثقافتی اہمیت کے پیش نظر سخت پابندیاں برقرار رہیں گی۔ اس قانون میں کیا ہے؟

اس مہینے کے آغاز میں سعودی عرب کی کابینہ نے اس قانون کی منظوری دی تھی۔

(جاری ہے)

اس کے تحت غیر ملکی افراد، کمپنیاں، غیر منافع بخش تنظیمیں اور سرمایہ کاری کے ادارے ملک کے مخصوص علاقوں میں جائیداد خریدنے یا اس پر حق رکھنے کے اہل ہوں گے۔

ان حقوق میں ملکیت، جائیداد کو لیز پر لینا، جائیداد کے استعمال (یعنی استفادہ) کا حق اور رئیل اسٹیٹ سے متعلق مفادات شامل ہیں۔ تاہم، یہ حقوق اس بات پر منحصر ہوں گے کہ جگہ کہاں واقع ہے، جائیداد کس نوعیت کی ہے اور اس کا استعمال کیا ہو گا۔

سعودی عرب میں قانونی طور پر رہائش پذیر غیر ملکیوں کو ممنوعہ علاقوں سے باہر ذاتی استعمال کے لیے رہائشی جائیداد خریدنے کی اجازت ہو گی۔

غیر فہرست شدہ غیر ملکی کمپنیاں، لائسنس یافتہ انویسٹمنٹ فنڈز اور اسپیشل پرپز وہیکلز کو بھی ملازمین کے لیے، رہائش اور آپریشنل استعمال کے مقصد سے جائیداد خریدنے کا حق حاصل ہو گا۔

سفارتی مشنز اور بین الاقوامی تنظیموں کو بھی جائیداد خریدنے کی اجازت دی جائے گی، بشرطیکہ انہیں وزارت خارجہ کی منظوری حاصل ہو اور ان کے اپنے ملک میں بھی اس پر اتفاق ہو۔

مکہ اور مدینہ میں ملکیت کے قوانین بدستور سخت ہیں۔ صرف مسلمان افراد ہی یہاں جائیداد خرید سکتے ہیں، وہ بھی سخت شرائط کے تحت۔ ان دونوں اہم مقامات پر غیر مسلم یا غیر ملکی افراد کے لیے ذاتی استعمال کی جائیداد کی خریداری پر مکمل پابندی ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق، یہ پابندیاں ’’مقدس مقامات کی مذہبی حرمت‘‘ کے تحفظ کے لیے ہیں۔

قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں کیا ہو گا؟

اگر اس قانون کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو ایک کروڑ سعودی ریال تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

غلط یا جھوٹی معلومات فراہم کرنے پر حکومت جائیداد ضبط کر سکتی ہے، اور اس کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم سرکاری خزانے میں جمع کی جائے گی۔

ایک خصوصی نفاذی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرے گی۔ اس کمیٹی کے فیصلوں کے خلاف 60 دن کے اندر عدالت میں اپیل کی جا سکتی ہے۔

جائیداد خریدنے کے خواہش مند افراد کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ حکومت کی طرف سے جاری اپڈیٹس پر قریبی نظر رکھیں تاکہ صحیح طریقے سے سعودی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں شمولیت اختیار کر سکیں۔

ادارت: صلاح الدین زین

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے غیر ملکی کے تحت کے لیے

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار
  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ جانیے
  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ انتہائی آسان
  • پی ٹی اے کی موبائل سمز سے متعلق اہم وارننگ
  • حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ