WE News:
2026-06-03@03:54:08 GMT

الوداع، ڈاکٹر مختار، لیکن ٹھہریے!

اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT

ایچ ای سی 2002ء میں، جبکہ ملک کا آئین معطل تھا،  ایک آرڈی نینس کے ذریعے  وجود میں لائی گئی۔ اس آرڈی نینس کو جنرل مشرف کے جاری کردہ دیگر قوانین کی طرح ایل ایف او  اور 17ویں ترمیم کے ذریعے تسلسل عطا کیا گیا۔ 2010ء میں 18ویں ترمیم کے بعد اس تسلسل کو جاری رکھا گیا۔ تاہم اس ترمیم نے  قانون سازی کےلیے ’مشترک فہرست‘ کا خاتمہ کرکے تعلیم سمیت ایسے تقریباً تمام امور صوبوں کی طرف منتقل کردیے۔ تاہم اس وقت کے چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر عطاء الرحمان سپریم کورٹ جا پہنچے اور فریاد کی کہ اگر ایچ ای سی کو صوبوں کے حوالے کردیا گیا، تو بربادی آجائے گی۔

افتخار محمد چودھری صاحب کی عدالت تھی، مرضی کے فیصلے تھے۔ چنانچہ 12 اپریل 2011ء کو انہوں نے مختصر حکمنامہ جاری کرکے ایچ ای سی کو اپنا سابقہ کام جاری رکھنے کی اجازت دی۔ چودھری صاحب کے دوسرے کئی مختصر حکمناموں کی طرح اس حکمنامے کی تفصیلی وجوہات بھی کبھی سامنے نہیں آئیں اور 14 سال بعد بھی  ایچ ای سی اسی مختصر حکمنامے کے بل بوتے پر قائم ہے۔

اس دوران میں ایک اور تبدیلی آئی جس نے ایچ ای سی کےلیے عملاً بہت سارے مسائل پیدا کیے۔’دہشت گردی کے خلاف اتحاد‘ کا حصہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کو ’اتحادیوں کی مدد کےلیے فنڈ‘ کی مد میں کئی بلین ڈالر ملتے تھے۔ اس مدد کا وافر حصہ ایچ ای سی کے ذریعے اعلی تعلیم کی طرف منتقل کیا گیا۔ چنانچہ ایچ ای سی نے بہت سارے لوگوں کو غیر ملکی یونیورسٹیوں میں پڑھنے کےلیے بھیجا، باہر سے پڑھے ہوؤں کو یہاں کی یونیورسٹیوں میں پڑھانے کےلیے بلایا، کئی بین الاقوامی کانفرنسیں کیں، مختلف تحقیقی پروجیکٹس کےلیے رقوم دیں، اور بظاہر کچھ عرصے کےلیے یونیورسٹیوں اور اعلی تعلیم کے مراکز میں بڑی ہلچل نظر آئی۔ اس دور میں ’ہر ضلع میں ایک یونیورسٹی‘ کی پالیسی بھی اختیار کی گئی اور دھڑا دھڑ یونیورسٹیاں قائم کی گئیں۔ پھر ان یونیورسٹیوں میں بہت سارے نئے شعبے بھی قائم کیے گئے اور کئی نئے پروگرام جاری کیے گئے۔ ایچ ای سی کے کرتا دھرتا 10 انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ‘کی مجسم تصویر بنے نظر آتے تھے کہ اچانک ’کولیشن سپورٹ فنڈ‘ کے سوتے خشک ہوگئے اور ایچ ای سی پر ہن برسنا بند ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: اخلاقیات پر مصنوعی ذہانت کے ساتھ ایک مکالمہ

اس کے بعد معلوم ہوا کہ کئی یونیورسٹیاں تو صرف اینٹوں اور پتھروں کی عمارت کی صورت میں ہیں اور ان میں کئی شعبے صرف کاغذات میں ہی پائے جاتے ہیں، کئی پروگرام ایسے ہیں جن  میں طلبہ موجود ہی نہیں، کئی لوگ جو اسکالرشپ لے کر باہر گئے، وہ واپس ہی نہیں آئے، کئی  پروجیکٹ بس نام ہی کے پروجیکٹ تھے۔ ’تحقیقی مجلات‘کا ڈراما الگ۔ Egyptology یعنی ’مصریات‘ کے موضوع پر ایک بوگس مجلے میں پاکستان کے آئینی مسائل پر چند صفحات کا مقالہ شائع ہو جسے 3 مقالہ نگاران نے لکھا ہو اور وہ مجلہ ایچ ای سی کے اعلی درجے کے مجلات میں شامل ہو! یہ صرف ایک مثال ہے، ورنہ تحقیقی مجلات کے نام پر جو کھیل رچایا گیا ہے، اس کی تفصیلات بہت اندوہناک ہیں۔

ایچ ای سی کا آرڈی نینس اسے ’ریگولیٹر‘ کی حیثیت نہیں دیتا، نہ ہی اس کی دفعہ 10  جو ایچ ای سی کے اختیارات کے متعلق ہے، اسے ایسا کوئی اختیار دیتی ہے، لیکن ایچ ای سی نے یونیورسٹیوں پر اپنی مانی قائم کرنے کے لیے خود کو ریگولیٹر کے طور پر ان پر مسلط کیا ہوا ہے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ جب پچھلے سال سپریم کورٹ میں مقدمہ آیا کہ سرکاری یونیورسٹیوں کا معیار بہت زیادہ گر گیا ہے اور وہاں انتظامی بدعنوانی اور مالیاتی کرپشن کے علاوہ علمی زوال کی بدترین صورتحال ہے، تو ایچ ای سی نے سپریم کورٹ کے سامنے گربہ مسکین بن کرکہا تحریری موقف یہ دیا کہ یونیورسٹیاں اپنے امور میں خود مختار ہیں اور ایچ ای سی تو انہیں صرف سفارشات ہی دے سکتی ہے!

ڈاکٹر مختاراحمد  کا ایچ ای سے کے چیئرمین کے طور پر دور کل ختم ہوا۔ وہ 2014ء سے 2018ء تک ایچ ای سی کے چیئرمین رہے۔ اس کے بعد اگست 2022ء میں انہیں پھر 2 سال کےلیے چیئرمین بنایا گیا۔ واضح رہے کہ پہلے چیئرمین ایچ ای سی کے عہدے کی مدت 4 سال تھی لیکن 2021ء میں ایک ترمیم کے ذریعے اسے 2 سال کردیا گیا۔ اسی سال ایک اور ترمیم کے ذریعے یہ بھی قرار دیا گیا کہ چیئرمین کے عہدے پر 2 دفعہ سے زائد کسی کو تعینات نہیں کیا جائے گا۔ اس کے باوجود جولائی 2024ء میں ڈاکٹر مختار کو ایک سال کی توسیع دی گئی جو قطعی غیر قانونی تھی۔ تاہم اس لاقانونیت کے خلاف قانونی کارروائی ایک سال میں پوری نہیں ہوسکی اور کل اس ایک سال کی مدت کا بھی اختتام ہوگیا۔

ڈاکٹر مختار نے آخر میں بہت کوشش کی کہ کسی طرح انہیں مزید ایک سال کی توسیع ملے، یا کم از کم اتنا کیا جائے کہ جب تک نیا چیئرمین ایچ ای سی تعینات نہ ہو، انہیں عہدے پر کام کرنے دیا جائے، لیکن یہ مقامِ شکر ہے کہ اس بار حکومت نے قانون کی خلاف ورزی سے انکار کیا کیونکہ ایچ ای سی آرڈی نینس میں صراحت کے ساتھ قرار دیا گیا ہے کہ چیئرمین کا عہدہ خالی ہونے پر ایچ ای سی کے مستقل ارکان میں کسی کو عارضی چیئرمین کے طور پر تعینات کیا جائے گا اور یہ تعیناتی زیادہ سے زیادہ 3 ماہ کےلیے ہوگی جس کے دوران میں مستقل چیئرمین کی تعیناتی کی جائے گی۔ چنانچہ کل جاری کیے گئے نوٹی فیکیشن کے مطابق وزارتِ تعلیم کے سیکریٹری کو، جو ایچ ای سی کے مستقل ارکان میں سے ہیں، 3 مہینوں کے لیے عارضی چیئرمین مقرر کرلیا گیا ہے۔

ڈاکٹر مختار تقریباً ایک عشرے تک ایچ ای سی کے سربراہ رہے۔ چنانچہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ اس دوران میں سرکاری یونیورسٹیوں میں ایڈ ہاک ازم کا راج رہا اور پچھلے سال سپریم کورٹ کو بتایا گیا کہ وفاقی اور صوبائی سرکاری یونیورسٹیوں میں تقریباً 2 تہائی یونیورسٹیاں ایسی ہیں جن میں وائس چانسلر کا عہدہ خالی ہے یا اس پر عارضی تعیناتی کی گئی ہے، یہی حالت رجسٹرار، ڈین اور دیگر عہدوں کی رہی ہے۔

مزید پڑھیے: اسلامی جمہوریہ میں طلاق کا غیر اسلامی قانون

سرکاری یونیورسٹیاں سالہا سال سے مالیاتی بحران کا شکار ہیں؛ بیشتر یونیورسٹیوں میں تنخواہوں اور پنشن کی مد میں دینے کےلیے رقم ہی پوری نہیں ہوتی، لیکن سرکاری ٹیلی وژن کو ایک انٹرویو  میں ڈاکٹر مختار نے کہا کہ اس سال کے وفاقی بجٹ میں یونیورسٹیوں کےلیے وہی رقم ہے جو 2017ء سے انہیں دی جاتی رہی ہے؛ مزید یہ کہ یونیورسٹیوں کا ڈیویلپمنٹ بجٹ جو پچھلے سال 61 بلین تھا، اس سال اس میں شدید کمی کرکے اسے 39 بلین کردیا گیا ہے!

انٹرویو میں ڈاکٹر مختار نے مزید کہا کہ کسی زمانے میں پاکستانی یونیورسٹیوں میں سالانہ صرف 850 تحقیقی مقالات شائع ہوتے تھے، جبکہ اب سالانہ 40 ہزار تحقیقی مقالات شائع ہوتے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان 40 ہزار مقالات کے نتیجے میں ملک میں کیا انقلاب برپا ہوا ہے؟ جعلی مجلات، جعلی مقالات، جعلی تحقیق، ایچ ای سی کی اس پالیسی نے قوم کو دیا کیا ہے؟

پچھلے سال سپریم کورٹ کو بتایا گیا کہ سرکاری یونیورسٹیوں کے فیصلہ ساز اداروں، سینڈیکیٹ، سینیٹ، بورڈ آف گورنرز وغیرہ کے اجلاس ہوتے ہی نہیں ہیں۔ ایچ ای سی نے یہ ساری باتیں تسلیم کیں۔ سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں ان امور اور دیگر متعلقہ امور پر ایچ ای سی، وزارتِ تعلیم، وفاقی و صوبائی حکومتوں اور سرکاری یونیورسٹیوں کو تفصیلی احکامات دیے گئے۔ یہ فیصلہ پچھلے سال اکتوبر 2024ء میں جاری کیا گیا۔ تقریباً 10 مہینے ہوچکے۔ اب صورتحال کیا ہے۔ صرف ایک یونیورسٹی کا معاملہ دیکھ لیجیے جس کا انتظام اس دوران میں ڈاکٹر مختار نے براہِ راست سنبھالا۔

مزید پڑھیں: ایران کے خلاف اسرائیلی و امریکی جارحیت: اہم قانونی سوالات

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی ریکٹر کو تفصیلی طور پر چارج شیٹ کرنے کے بعد سپریم کورٹ نے انہیں معطل کرتے ہوئے وزارتِ تعلیم کو حکم دیا کہ انہیں ہٹا کر یونیورسٹی کےلیے اہل ریکٹر کی تعیناتی مستقل بنیادوں پر کی جائے اور جب تک یہ نہ ہو، ایچ ای سی کے چیئرمین عارضی طور پر ریکٹر کی ذمہ داریاں سنبھال کر معاملات کو درست کرلیں۔ مزید سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ یونیورسٹیوں میں عارضی تعیناتی 6 مہینوں سے زیادہ مدت کےلیے نہ ہو۔ ڈاکٹر مختار نے نومبر 2024ء میں اس یونیورسٹی کے ریکٹر کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ قانوناً انہیں اپریل 2025ء تک سارے کام نمٹا کر یہاں سے نکل جانا چاہیے تھے، لیکن ابھی تک اس یونیورسٹی کےلیے مستقل ریکٹر کی تعیناتی کےلیے اشتہار تک نہیں دیا گیا۔ یونیورسٹی کے آرڈی نینس کے مطابق بورڈ آف گورنرز کا اجلاس ہر 3 مہینوں میں کم ازکم ایک دفعہ ہونا لازمی ہے اور سپریم کورٹ نے اس کا صریح حکم بھی دیا تھا، لیکن ڈاکٹر مختار نے 7 مہینوں میں کوئی میٹنگ نہیں بلائی، حالانکہ کئی معزز ارکان نے بارہا میٹنگ بلانے کا مطالبہ کیا۔ یونیورسٹی کا بجٹ بھی بورڈ سے منظور ہونا لازمی ہے۔ سوال یہ ہے کہ بجٹ منظور ہوئے بغیر ڈاکٹر مختار یونیورسٹی کے اخراجات کس قانون کے تحت چلاتے رہے؟

اور سو سوالوں کا ایک سوال: کیا ڈاکٹر مختار کے اس ایک عشرے پر محیط دور کا علمی و مالیاتی آڈٹ کبھی ہوسکے گا؟

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد شفاء تعمیرِ ملت یونیورسٹی اسلام آباد میں پروفیسر اور سربراہ شعبۂ شریعہ و قانون ہیں۔ اس سے پہلے آپ چیف جسٹس آف پاکستان کے سیکرٹری اور شریعہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔ آپ سول جج/جوڈیشل مجسٹریٹ کی ذمہ داریاں بھی انجام دے چکے ہیں۔ آپ اصولِ قانون، اصولِ فقہ، فوجداری قانون، عائلی قانون اور بین الاقوامی قانونِ جنگ کے علاوہ قرآنیات اور تقابلِ ادیان پر کئی کتابیں اور تحقیقی مقالات تصنیف کرچکے ہیں۔

افتخار محمد چودھری ایچ ای سی چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر عطاء الرحمان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افتخار محمد چودھری ایچ ای سی سرکاری یونیورسٹیوں چیئرمین ایچ ای سی یونیورسٹیوں میں میں ڈاکٹر مختار ڈاکٹر مختار نے بین الاقوامی یونیورسٹی کے ایچ ای سی نے ایچ ای سی کے کے چیئرمین سپریم کورٹ آرڈی نینس پچھلے سال کے طور پر ریکٹر کی کے ذریعے ترمیم کے دیا گیا ایک سال کے بعد گیا ہے

پڑھیں:

ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟

ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔

اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔

لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔

گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟

مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔

مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان

تازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔

پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیں

گزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے  تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات

پاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یورپی یونین کی غیر معمولی تائید

یکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔

اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ  طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔

اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکز

موجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔

امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین

متعلقہ مضامین

  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود