کراچی میں 25 سالہ نوجوان مبینہ طور پر ڈکیتی کے دوران فائرنگ سے جاں بحق، چند ماہ بعد شادی تھی
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
شہر قائد کے علاقے نیو کراچی پاور ہاؤس چورنگی کے قریب مبینہ طور پر ڈکیتی کی واردات کے دوران نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے نوجوان جاں بحق ہوگیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق تھانہ بلال کالونی کی حدود میں واقع علاقے نیو کراچی پاور ہاؤس نزد عالم پرائیڈ کے قریب موٹرسائیکل سوار تین ملزمان نے 125 موٹرسائیکل پر سوار دو افراد کو روک کر تلاشی لینا شروع کی، اس دوران ایک شخص نے فرار ہونے کی کوشش کی تو ملزمان نے فائرنگ کردی۔
فائرنگ کے نتیجے میں 25 سالہ صدام ولد امام گولی لگنے سے موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔ واقعے کے بعد ملزمان بغیر کوئی سامان لوٹے موقع سے فرار ہوگئے۔
ڈی ایس پی ندیم احمد اور متعلقہ تھانے کی پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو عباسی شہید اسپتال منتقل کیا۔ ایس ایچ او ناصر خان کے مطابق مقتول صدام کلفٹن کا رہائشی تھا اور اپنے کزن خدا بخش کے ہمراہ یو پی مارکیٹ خریداری کے لیے آیا تھا۔
عینی شاہد خدا بخش نے بتایا کہ تین ملزمان نے انہیں روکا، صدام نے موٹرسائیکل کی چابی نکال کر بھاگنے کی کوشش کی تو ملزمان نے قریب سے اس کی گردن پر گولی ماردی۔
مقتول کے کزن کے مطابق صدام ڈیفنس میں واقع ایک بنگلے پر خانساماں کی ملازمت کرتا تھا، اس کا تعلق تھرپارکر سے تھا اور چند ماہ بعد اس کی شادی طے تھی اور متوفی تین بھائیوں میں سب سے بڑا تھا۔
ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل ذیشان صدیقی کے مطابق پولیس نے جائے وقوعہ کے اطراف سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں اور واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش کی جارہی ہے تاحال ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر قتل کے شواہد نہیں ملے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔